Tuesday, January 12, 2016

سردار اختر مینگل کی زیر صدارت اسلام آباد میں اے پی سی ،گوادر میگا پراجیکٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے ،آل پارٹیزکانفرنس.


اقتصادی راہداری اور گوادر کے حوالے سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا ء نے اقتصادی راہداری کے حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ،اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ کو نظر انداز کرنے سے مسائل پیدا ہونگے ،گوادر کی ترقی سے قبل گوادر میں رہائش پذیر بلوچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ،اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے تمام سیاسی جماعتیں اس کی حمایت کرتی ہیں ،وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں منعقدہ اے پی سی میں کئے گئے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جائے ۔اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے پی سی کے میزبان سردار اختر مینگل نے کہاہے کہ اے پی سی کے کامیاب انعقاد سے یہ پتہ چل گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے حقوق کے حصول کیلئے جاگ چکی ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے کھبی بھی دودھ اور شہد کی نہروں کا مطالبہ نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ اس سے قبل عدالت میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مقدمہ پیش کیامگر ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی ہے انہوں نے کہاکہ آج پھر بلوچستان کے عوام کو دلدل میں دھیکیلا جا رہا ہے اور اگر مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو پھر مذید اے پی سی ممکن نہ ہوگاانہوں نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ میں بلوچستان کے بارے میں پیش کئے گئے 6نکات پر عمل درآمد ہوجاتا تو آج اے پی سی نہ بلائی جاتی انہوں نے کہاکہ اگر میرے 6نکات میں ایک بھی آئین اور فیڈریشن کے خلاف ہو تو میں اس سے دستبردار ہو سکتا ہوں انہوں نے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا کی آواز اسلام آباد کے ایوانوں میں سنائی نہیں دی جاسکتی ہے تو مجھ سے دور رہنے والے کی آواز کہاں سنائی دے گی انہوں نے کہاکہ کیا ہم صرف بانسری تو نہیں بجا رہے ہیں اگر ملک کے ادارے مضبوط ہوتے تو اے پی سی بلانے کی ضرورت نہ پڑتی اگر جمہوری ادارے ،عدلیہ مضبوط ہوتے تو ہمیں اپنی پارٹیوں کے نام جسٹس نہ رکھنے پڑتے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو اس کے رقبے کے لحاظ سے محروم رکھا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ میں اقتصادی راہداری کے حق میں ہوں مگر مجھے گوادر کو ملنے والا حق تو دکھاؤ46ارب روپے کے منصوبے میں بلوچستان کے عوام کو کیا ملے گا انہوں نے کہاکہ کیا بلوچستان کے حالات ٹھیک ہیں اگر نہیں تو کیوں اور اس کے پیچھے وہ کونسے عوام ظلم و زیادتی ہے جنہوں نے لوگوں کو بیرون ملک جانے اور پہاڑوں میں جانے پر مجبور کیا ہے انہوں نے کہاکہ ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں اچھی تعلیم خوراک اور رہائش حاصل کرسکیں مگر ہمیں یہ حق نہیں دیا جارہا ہے اور ہمارے اباؤاجداد کی قبروں پر محلات تعمیر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ دنیا بھرمیں ایسے منصوبوں کے وقت سیکورٹی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مگر پاکستان میں تمامنصوبے اپنے زاتی مفادات کے تحت بنائے جاتے ہیں اقتصادی راہداری کے حوالے سے مقامی قیادت کو نظر انداز کیا گیا ہے اور اب ملک کی اقتصادی پالیسی بھی غیر بنا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ کیا ایٹمی دھماکے کے بعد کسی نے چاغی کے عوام کا حال پوچھا ہے سینڈک منصوبے کے تحت بلوچستان کو ملنے والی رقم سے زیادہ بلوچستان حکومت نے سیکورٹی پر خرچ کر دئیے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو ترقی میں شامل کئے بغیر ملک کی ترقی کا سوچنا بددیانتی ہوگی انہوں نے کہاکہ ہم وہی چاہتے ہیں جو سندھ اور خیبر پختونخوا کے رہنے والوں کو بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لئے ہمارا ساتھ دینا ہوگاانہوں نے کہاکہ آئین بنتے بھی رہتے ہیں اور ٹوٹتے بھی ہیں مگر ملک ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اکھٹا نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ناراض کو گلے سے لگانا چاہیے اس کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹا نہیں جانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ پنجاب سے نہیں بلکہ اپنے ان نمائندوں سے نفرت کرتے ہیں جو آپ لوگوں کے ساتھ میز پر بات کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کی قسمت ان سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں ہے اور مجھے امید ہے کہ سیاسی قائدین اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیرمین محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی کے شعرسے کرتے ہوئے کہاکہ 69سال سے پاکستان معرض وجود میں ایا ہے اگر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان ترقی کرے اورایشین ٹائیگربنے تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے پاکستان ہمارا ملک ہے مگر یہ ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دیا ہے پاکستان کے معرض وجود میںآنے سے پہلے تمام قومیتیں آباد تھی انہوں نے کہاکہ انگریزوں کی حکمرانی کے دور میں ہم نے انگریز کا ہر طریقے سے مقابلہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ انگریز بہادر کے دور میں انصاف تعلیم ریلوے اور مواصلات کا بہترین نظام دیا اس کے باوجود کیا ضرورت پڑی کہ ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی رہنما انگریزوں کے خلاف تھے ہماری انگریزوں سے نفرت صرف اس بنیاد پر تھی کہ وہ اس سرزمین کے مالک نہیں تھے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد آج تک پاکستان میں بسنے والے قوموں کو حق حکمرانی نہیں دیا گیا بندوق کی طاقت سے قومیں نہیں بسائی جا سکتی ہیں انہوں نے کہاکہ ہر آدمی پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتا ہے جب تک ملک سے بے انصافی کا خاتمہ نہ ہو اس وقت تک آمن قائم نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کو چلانے کا واحد راستہ انصاف ہے جب بلوچی سندھی پختون اور پنجابی کو اس کے علاقے کی نعمتوں کا مالک بنایا جائے اسی وقت 20کروڑ انسانوں کا ملک ایک قوم بن جائے گاانہوں نے کہاکہ جب تک افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر نہ ہوں اس وقت تک اقتصادی راہداری مکمل نہیں ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ ملک کے تما م اداروں کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگااور تمام اداروں کو پارلیمنٹ کے طابع ہونا ہوگاانہوں نے کہاکہ ہم خفیہ ایجنسیوں کے مخالف نہیں ہیں مگر ہم ایجنسیوں کے سیاست میں مداخلت کے خلاف ہیں انہوں نے کہاکہ میں اس اقتدار پر لعنت بھیجتا ہوں جو جاسوسی اداروں کے زور پر ملی ہوانہوں نے کہاکہ میں ان تمام سیاسی کارکنوں اور لیڈروں پر بھی لعنت بھیجتا ہوں جو جاسوسی اداروں کے اہلکار ہوں انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پاس وقت بہت کم ہے دنیا کی تاریخ یہ ہے کہ عوام جیتی ہے اور فوج ہاری ہے انہوں نے کہاکہ ایک قرارداد یہ بھی ہونی چاہیے کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہوگی اور پارلیمنٹ سب سے بااختیار ادارہ ہوگا انہوں نے کہاکہ ہمیں عوام پر بھروسہ کرنا ہوگا پاکستان میں خود ادارے عوام کو کرپٹ کر رہے ہیں مہران بنک کا کیس کئی سالوں سے بنکوں میں پڑا ہوا ہے اور کئی چیف جسٹس تبدیل ہوجائیں گے مگر کچھ بھی نہیں ہوگاانہوں نے کہاکہ کینیڈا کے جادوگرپارلیمنٹ کے سامنے بیٹھا رہااور اراکین پارلیمنٹ سمیت ججز صاحبان کو چوردروازوں سے آنا پڑا مگر کسی کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو یہ واضح طور پر بتا دیا کہ جب تک پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرو گے تو میری غیر مشروط حمایت اپ کے ساتھ ہوگی انہوں نے کہاکہ جب تک سندھی سرائیگی بلوچی پختون زندہ باد نہ ہونگے اس وقت تک پاکستان زندہ باد نہیں ہوگاانہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حقوق کا واحد حل یہ ہے کہ سب سے پہلے بلوچستان پشتونوں اور بلوچوں کے مابین معاہدہ طے پایا جائے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی آبادی صرف ایک لاہور کے برابر ہے جبکہ بلوچستان کے وسائل 15ملکوں کے برابر ہے انہوں نے کہاکہ جب تک ہم اپنے وسائل کے مالک نہ بنے اور تمام اختیارات کی منصفانہ تقسیم نہ ہو اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت حالات خطرناک ہیں ہمیں آمن کی جانب بڑھنا ہوگاجے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم آئین کے تحت اپنے مطالبات پارلیمنٹ اور قانون ساز اداروں کے سامنے رکھیں مگر یہاں پر ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں ہمیں بنیادی طورپر اپنے اس جمہوری ماحول کی اصلاح کرنی ہوگی ہمیں پارلیمنٹ اور قانون ساز اداروں کو آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنا فرض پورا کریں انہوں نے کہاکہ عوام کے منتخب اداروں کے سامنے بھی اسٹیبلشمنٹ کھڑی ہوجاتی ہے اور انہیں قانون سازی سے روک دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ انتہا پسند اور شدت پسند کہہ کر ہمیں اپنے حق سے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ 28مئی کو اے پی سی کے موقع پر یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ بلوچستان کے مسائل پر بھی حکومتی سطح پر اے پی سی بلائی جائے گی اور میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ آج کے اعلامئے میں اس کو بھی شامل کیا جائے انہوں نے کہاکہ آج کی اے پی سی گوادر کے مسئلے پر بلائی گئی تھی مگر ساری کی ساری گفتگو اقتصادی راہداری پر کی گئی انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا ہوگاانہوں نے کہاکہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ میں موجود ہے ملک کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی تو پارلیمنٹ کی سطح پر اس کا حل نکالا گیااور اتفاق رائے پر پہنچے انہوں نے کہا کہ آج بھی ایک ایسا ہی مرحلہ سامنے آیا ہے اور ہمیں احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین کی دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے اور ہمیں ایک نیا سفر شروع کرنا ہے انہوں نے کہاکہ چین کی قیادت کو مغربی روٹ پر آمادہ کرنے کیلئے کئی ملاقاتیں کی ہیں جس کے بعد وزیر اعظم نے اے پی سی میں مغربی روٹ کے اعلانات کئے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کے اعلانات اور زمینی حقائق میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان کو پیغام دیدیا گیا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی وزیر اعظم سے ملاقات کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم اپنے مسائل کے سلسلے میں اپنی قیادت کے سامنے روئیں گے اور ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے تحفظات کو دور کرے انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا 67سالوں سے پسماندہ ہیں اور ان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ پسماندہ صوبے معدنی وسائل سے مالا مال ہیں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمیں اپنی پانی کی فکر کرنی ہوگی ہمارے دریا خشک ہورہے ہیں ہمیں یہ سوچنا ہوگاانہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے ہمیں اپنے متبادل تلاش کرنے ہونگے انہوں نے کہاکہ ملک کو برابری کی جانب لے کر جانا ہوگاانہوں نے کہاکہ ہم نے قرآن کے نظام کو بھلا دیا ہے اور اگر قرآن کی بات کرتے ہیں تو شدت پسند قرار دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ جب تک ہم اسلامی نظام سے دور رہیں اس وقت تک ہمارے مسئلے حل نہیں ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم عصری علوم کے کسی بھی طور پر مخالف نہیں ہیں دنیا کے تمام علوم اسلامی علوم کی تعبیرات ہیں انہوں نے کہاکہ اعتدال پیدا کرنا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہاکہ جب قوم پرست اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم مولوی ان کے ساتھ ہوتے ہیں مگر جب مولوی اسلام کی بات کرتا ہے تو کوئی بھی ان کا ساتھ نہیں دیتا ہے انہوں نے کہاکہ مستقبل کی ترقی کیلئے انتہاپسندی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ایک دوسرے کو غلط کہنے کی بجائے ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگاانہوں نے کہاکہ گوادر کے بلوچوں کے حقوق کا تحفظ بے حد ضروری ہے مگر اس میں احتیاط کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں آئین اور قانون کے ماہرین سے مشورہ لینا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کے مفادات پر اپنی سوچ مرکوز کرنی ہوگی اور عالمی سازشوں کو دیکھنا ہوگا نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ سردار اختر مینگل کو سی پیک پر اے پی سی بلانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں تاہم بلوچستان میں دیگر مسائل بھی ہیں بلوچستان میں روڈ کا تصور ہی نہیں ہے بلوچستان کے عوام اس وقت بھی 17ویں صدی میں رہ رہے ہیں وہاں پر اب بھی چرواہوں کی زندگی گزارنے والے بہت زیادہ ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نہ تو پاکستان سے علیحدہ ہیں اور نہ ہی علیحدگی کے خواہشمند ہیں مگر ہمیں اقلیتوں میں تبدیل کرکے ترقی دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس وقت تک بلوچستان کو اپنے تشخص کو بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے ہمیں سی پیک کے منصوبوں سے کوئی غرض نہیں ہے ہمیں بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو سیاستدانوں نے مل بیٹھ کر بنایا ہے مگر اب کیا مشکلات ہیں کہ اس کو نافذ نہیں کیا جا رہا ہے اگر ہم اس کو نافص کردیں تو ہمارے بہت زیادہ مسائل حل ہوسکتے ہیں انہو ں نے کہاکہ اگر ہم نے 18ویں ترمیم کے تحت کئے جانے والے معاہدوں سے روگردانی کی کوشش کی تو نئی باتیں سامنے آسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ تیل اور گیس پر صوبے اور وفاق50فیصد حصے کے مالک ہیں مگر اس پر عمل نہیں کیا جار ہا ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں غیر ملکی زبانیں بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہورہی ہے اور میں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بلوچوں کو اقلیت بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نہایت خطرناک نتائج سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ جو بجٹ وفاق کی جانب سے بلوچستان کوملتے ہیں اس سے بلوچستان اگلے 50سالوں میں بھی ترقی نہیں کر سکتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر ایران سعودی ٹکراؤ میں ہماری تھوڑی سی بھی نشانی نظر آئی تو بلوچستان جہنم بن جائے گا کیونکہ ہماری ایران کے ساتھ 3ہزار کلو میٹر وسیع بارڈر واقع ہے انہوں نے کہاکہ اگر سیاسی طور پر ایسی کوئی غلطی کرنے کی کوشش کی گئی تو حکمران اس کا انداز بھی نہیں لگا سکتے ہیں کہ اگے کیا ہوگاانہوں نے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور ایران سعودی عرب تنازعے سے دور رہیں بلکہ اس تنازعے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حید ر نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے مغربی راہداری کیلئے کوئی وسائل مختص نہیں کئے گئے جبکہ مشرقی روٹ کیلئے فنڈز مختص کئے گئے تھے جس پر شکوک و شبہات کا آغاز ہوا انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں چیرمین سینٹ نے ایک خصوصی کمیٹی بنائی تاکہ اقتصادی راہداری پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے مگر کمیٹی کے دو میٹنگز میں یہ اندازہ ہوگیا کہ معاملات دوسری سمت جارہے ہیں جس پر ہم نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھا اقتصادی راہداری کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمیں اس خط کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے اس حوالے سے رپورٹ مرتب کی اور وہ خط بھی شامل کیا تاکہ تمام اراکین کو صورتحال کا اندازہ ہوسکے انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ 81کلو میٹر کی سڑک 9ارب روپے میں تعمیر کی گئی جبکہ ماہرین کے مطابق اس پر 36ارب روپے خرچ ہونے چاہیے انہوں نے کہاکہ اتحاد کو انتشار میں بدلنے والے جمہوریت کے دشمن ہیں اور وہ لوگ چاہتے ہیں کہ چوتھی قوت اقتدار میں اجائے انہوں نے کہاکہ گوادر کا زمینی رابطہ دیگر علاقوں کے ساتھ قائم کرنا بے حد ضروری ہے ۔جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شازین بگٹی نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے بلوچوں کو نظر انداز نہ کیا جائے انہوں نے کہاکہ ہم سی پیک کے منصوبوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے مشرف دور میں فوجی اپریشن کے بعد بلوچستان کو مسائل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں بگٹی مہاجرین کسم پرسی کی حالت میں ہیں اور ان کیلئے کوئی بھی کیمپ نہیں بنایا گیا ہے انہوں نے کہاکہ مشرف دور حکومت می بے پناہ لوگوں پر مقدمات بنائے گئے ان مقدمات کو ختم کیا جائے تمام بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔ایم کیو ایم کے رہنما خالد صدیقی نے کہاکہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے خدشات کو دور کیا جائے ہماری بدقسمتی ہے کہ اقتصادی راہداری سے پاکستان کے کچھ علاقوں میں تو خوشحالی پیدا ہورہی ہے جبکہ بعض علاقوں خدشات پیدا ہو رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سب سے زیادہ معاشی سرگرمیاں کراچی میں ہوتی ہیں مگر کراچی کو نظر انداز کیا جا رہاہے انہوں نے کہاکہ گوادر کے حوالے سے تمام فیصلے مقامی قیادت کی مرضی سے ہونے چاہیے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی چیرمین راجہ ظفر الحق نے کہاکہ مغربی روٹ جو بلوچستان سے گزرنے والے مغربی روٹ کو ہر قیمت پر اولیت دی جائے گی انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی پسماندگی کا خاتمہ بے حد ضروری ہے اگر بلوچستان کو خصوصی وسائل نہ دئیے جائیں تو وہ باقی ملک کے برابر نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ بے حد ناانصافی کی گئی ہے ان کو توجہ دینا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہاکہ گوادر کے عوام کو ان کا حق دینے کے لئے قانون سازی کی جائے تاکہ ان کی آئندہ کی نسل بہترین زندگی گزار سکے انہوں نے کہاکہ کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کرکے تمام تر صورتحال سے اگاہ کریں پاکستان مسلم ق کے مرکزی رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ پوری قومی قیادت اے پی سی میں موجود ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس پر اتفاق رائے ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کیلئے بہترین منصوبہ ہے انہوں نے کہاکہ گوادر کے حوالے سے جو مسائل ہیں اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ قومی قیادت میں تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے انہوں نے کہاکہ گوادر کے بارے میں چین کی صدر نے اعلان کیا تھا کہ گوادر کے زریعے 65ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے جائیں گے انہوں نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری دو ممالک کے مابین ایک بہت بڑا اور دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے انہوں نے کہاکہ گوادر نہ صرف چین بلکہ وسطی ایشیائی ریاستو ں کے ساتھ سب سے آسان راستہ ہے یہ صرف اقتصادی راہداری نہیں بلکہ خطے کی استحکا م کا بھی معاہدہ ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے وزیر اعظم کی سربراہی میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ چارون سروسز چیف اور گورنر سٹیٹ بنک پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے تاکہ تمام منصوبوں کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے ۔جماعت اسلامی کے قائمقام امیر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ وزیر اعظم پاکستان اقتصادی راہداری اور نیشنل ایکشن پلان پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کرنے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ چین کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو نقصان نہ پہنچ سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے چھوٹے صوبوں کے تحفظات کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر سی پیک کے حوالے سے صوبوں کو تشویش ہے تو وزیر اعظم پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بلا کردوبارہ اتفاق رائے پیدا کریں انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ جس طرح اقتصادی راہداری پر صوبوں کے تحفظات ہیں اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بھی سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہیں جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ قومی معاملات پر بھرپور اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔قومی وطن پارٹی کے مرکزی صدر افتاب شیر پاؤ نے کہاکہ ملک کو چلانے کے لئے تما م اکائیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگاوفاقی حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لیکر حکومت کو چلانا ہوگاجب تک وفاقی اکائیاں مضبوط نہ ہونگی اس وقت تک ملک کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں قومی مسائل پر فیصلے کرنا درست نہیں ہے اس سلسلے میں تما قومیتوں کو اعتماد میں لینا ہوگاانہوں نے کہا کہ سی پیک پر خیبر پختونخوا کو تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے ہم گوادر کی اہمیت اوربلوچوں کے تحفظات کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اورکے پی کے تحفظات کو بھی دور کیا جائے اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام نہیں ہو رہا ہے جبکہ مشرقی راہداری پر کام بھی شروع کیا جا چکا ہے جس سے عوا م کے ذہنوں میں خدشات پیدا ہوجاتے ہیں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان نے مغربی روٹ کو پہلے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مغربی روٹ کو سب سے پہلے بنایا جائے اور مغربی راہداری کے ساتھ ساتھ تمام منصوبے بھی شروع کئے جائیں انہوں نے کہاک بجلی کے تمام منصوبے پنجاب سندھ اور بلوچستان میں لگائے جا رہے ہیں ۔دریں اثناء آل پارٹیزکانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ،گوادر کے وسائل پر بلوچستان کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے ،گوادر میں غیر مقامی افراد کو لوکل شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجرا نہ کیا جائے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ختم کی جائے ،گوادر میں ہسپتال ،ٹیکنکل کالجز پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے ،اسلام آباد میں سی پیک اور گوادر کے حوالے سے منعقدہ اے پی سی کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے گوادر سے منتخب ممبر قومی اسمبلی واجہ عیسیٰ نوری نے قراردادیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ گوادر پورٹ میگا پراجیکٹ کا مکمل طورپر اختیار بلوچستان حکومت کو دیا جائے اور بلوچستان کے ساحل وسائل پر صوبے کا اختیار و حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔ وزیر اعظم کے آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ قراردادوں کے اعلامئے پر من و عن عمل درآمد کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کرنے کے وعدے کو پورا کیا جائے اور گوادر بلوچستان کے عوام کو اس پروجیکٹ کے ثمرات سے فیضیات ہونے کا موقع فراہم کیا جائے ۔گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے فوری طور پر قانون سازی اور ٹھوس پالیسی تجویز کی جائے ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو گوادر سے شناختی کارڈ لوکل پاسپورٹ جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور انتخابی فہرستوں میں ان کا اندراج نہ کیا جائے ۔گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف پانی انفراسٹرکچر ہسپتال سکول ٹیکنکل کالجز اور بندرگاہ سے متعلق ہنرمند افراد کیلئے ٹیکنکل سینٹرز اور میرین یونیورسٹی تعمیر کی جائے او ر ان میں گوادر کے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے ۔گوردر پورٹ اور میگا پراجیکٹ کے تمام ملازمتوں میں گوادر مکران اور بلوچستان کے نوجوانوں کو ترجیح دی جائے ۔گوادر میں ماہی گیروں کو معاشی استحصال سے بچانے کیلئے متبادل روزگار اور ماہی گیروں کیلئے جے ٹی کا بندوبست کیا جائے اور گوادر کے مقامی لوگوں پر مختلف قسم کی عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کی جائے ۔گوادر میں لوگوں کو علاج و معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں اورگوادر کے لوگوں کو بیرونی ممالک میں مفت ٹیکنکل ٹریننگ دی جائے نیز ملک کے دیگر صوبوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فری سکالر شپس فراہم کی جائیں ۔گوادر کے مقامی لوگوں کے ہزاروں ایکڑ زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کی مذمت کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں دوبارہ اصل مالکان کے حوالہ کیا جائے ۔گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کی شراکت داری کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔گوادر کے پرانے اور تاریخی شہر کوکئی اور منتقل کرنے کی پالیسی قبول نہیں ہے بلکہ گوادر کے پرانے تاریخی شہر کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے گوادر میں شہریوں کو نئے شناختی کارڈ جاری کرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔اے پی سی میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے قراردادوں کو متفقہ طور پرمنظور کر لیا ہے۔

https://www.facebook.com/BNP.Balochistan/posts/590427674441988:0



No comments:

Post a Comment