Tuesday, January 12, 2016

’گوادر بندرگاہ منصوبے کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیں‘

ہارون رشید، شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
11 جنوری 2016

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے کل جماعتی اجلاس اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا

پاکستان کی اکثر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے ایک اجلاس میں حکومت سے گوادر کی بندرگاہ کے منصوبے کا مکمل اختیار فوری طور پر بلوچستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں اتوار کو منعقدہ اجلاس میں چین راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کو پہلے مکمل کرنے اور بلوچستان میں ملازمتوں میں بلوچوں کو ترجیح اور وسائل پر ان کا حق تسلیم کرنے کی بات بھی کی گئی۔

اقتصادی راہداری، وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کمیٹی کا قیام

کیا اقتصادی راہداری دوسرا کالا باغ ہے؟

حکومت پاکستان ملک میں چین کے تعاون سے اربوں ڈالرز مالیت کے جس اقتصادی راہداری کے منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھانا چاہ رہی ہے اس میں وقت کے ساتھ ساتھ دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

اس منصوبے خصوصا گوادر پر اس کے اثرات سے متعلق خدشات پر غور کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے کل جماعتی اجلاس اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا۔

ملک بھر سے تمام اہم سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ سابق چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اس اجلاس میں اپنی نئی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے۔

عموما ایسے اجلاسوں میں یکطرفہ حزب اختلاف یا حزب اقتدار حاوی رہتی ہے تاہم شاید 46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کی اہمیت اتنی ہے کہ حکومت کے دو وزراء بھی شریک ہوئی اور حکومت کا موقف بیان کیا۔

یہ اجلاس تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں ماضی کے قوم پرستوں کے تحفظات، حال کے ماہرین کے خیالات اور بہتر مستقبل کے خواب لیے حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے۔


حالیہ دنوں میں اس منصوبے کے خلاف کھل کر باتیں کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس منصوے کی وجہ سے بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خاطر فوری قانون سازی کی جائے۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں اس منصوبے کے نتیجے میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں بھی مقامی لوگوں کو شرکت دار بنانے کے لیے بھی قانون سازی پر زور دیا گیا ہے۔

بیان میں گوادر میں اس لاکھوں ایکڑ اراضی کو بھی اصل مالکان کو لوٹانے کا بھی ذکر شامل ہے جس پر حکومت کی جانب سے ’زبردستی قبضہ‘ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور سینیٹر حاصل بزنجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد ہو تو صوبوں کے درمیان کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ اپنا تشخص اور زبان نہیں کھونا چاہتے ہیں اور انھیں اس کی ضمانت چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ صوبہ بلوچستان پر اس منصوبے سے سات ارب ڈالرز سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ راہداری کا منصوبہ کسی ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا ہے۔


وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اپنے خطاب میں تسلیم کیا کہ محرومیاں ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر جگہ ہیں۔ ’آپ میرے ساتھ میرے حلقے میں چلیں وہاں بعض علاقوں میں آج تک پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور مرنے والوں کے لیے قبرستان دستیاب نہیں۔‘

اس آل پارٹیز کانفرنس کی منتظم جماعت نیشنل پارٹی مینگل کے رکن قومی اسمبلی سید عیسی نوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ انھیں ہر فیصلے میں نہ صرف شامل کرے بلکہ اس پر پیش رفت سے آگاہ بھی کرے۔

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی گوادر پورٹ پر آمد اور بریفنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس اجلاس سے باہر رکھا گیا اور بریفنگ کے بعد چائے کے لیے اندر طلب کیا گیا۔ ’اس سے اندازہ لگائیں کہ حکومت اصل منتخب نمائندوں کو کتنا اہمیت دیتی ہے۔‘

خیال رہے کہ چین اور پاکستان نے گذشتہ سال جس اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی ہے اس کے تحت 46 ارب ڈالر کی لاگت سے چین کو بذریعہ سٹرک اور ٹرین کے گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔


http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160110_cpec_apc_balochistan_zs?



No comments:

Post a Comment