Tuesday, January 12, 2016

مجوزہ صنعتی زونز کے مقامات کی نشاندہی




خصوصی اقتصادی زونز کا قیام دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے عمل میں لایا جائے گا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر صنعتی زونز کے قیام کے لیے متوقع مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق نو دسمبر 2015 کو آئینی کمیٹی کا پہلا اجلاس چیئرمین بورڈ آف انویسٹرز کی سربراہی میں اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

راہداری کے منصوبے پر اختلافات ختم کیےجائیں: چین
’مغربی روٹ پر توانائی، موٹر وے نہیں تو کیسے چلے گا‘

کیا اقتصادی راہداری دوسرا کالا باغ ہے؟

بیان کے مطابق بورڈ آف انویسٹرز نے اجلاس سے قبل شرکا کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے بارے میں تجاویز کے بارے میں مطلع کیا گیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ ان خصوصی اقتصادی زونز کا قیام دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے عمل میں لایا جائے گا اور انھیں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے ساتھ ہمکنار کرنے کی ضرورت ہے۔
مجوزہ خصوصی اقتصادی زونز کے لیے بلوچستان میں پانچ اور خیبرپختونخواہ میں سات زونز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔


مجوزہ خصوصی اقتصادی زونز کے لیے بلوچستان میں پانچ اور خیبرپختونخواہ میں سات زونز کا قیام عمل میں لایا جائے گا

بلوچستان میں تربت انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ، انڈسٹریل اسٹیٹ خضدار، کوئٹہ کے قریب دشت انڈسٹریل زون، بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ اور قلعہ سیف اللہ، ژوب اور لورالائی کے درمیان انڈسٹریل زون کا قیام شامل ہیں۔

جبکہ خیبرپختونخوا میں مانسہرہ میں ماربل اور گرینٹ انڈسٹریل اسٹیٹ، نوشہرہ میں انڈسٹریل اسٹیٹ، حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی توسیع، غازی (حطار 11) میں انڈسٹریل اسٹیٹ، ڈیرہ اسماعیل خان میں انڈسٹریل اسٹیٹ، کرک اور کوہاٹ کی سرحد پر انڈسٹریل اسٹیٹ اور بنوں میں انڈسٹریل اور اقتصادی زون کا قیام شامل ہیں۔

بیان کے مطابق اجلاس میں اقتصادی زون کی تیاری میں خام مال کی دستیابی اور دیگر ضروریات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ مجوزہ خصوصی اقتصادی زونز کو معاشی طور پر بہتر اور کاروباری لحاظ سے موزوں ہو۔
اجلاس میں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے دونوں جانب سے گزرنے والے مغربی روٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

چین اور پاکستان نے گذشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی
اجلاس میں چیف سیکریٹری بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے کی جانب سے اپنے اپنے صوبوں میں اقتصادی زونز کے لیے مقامات کے بارے میں تفصیلات پیش کی گئیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبے میں ان مقامات کے بارے میں ماضی میں تخمینہ لگایا جاچکا ہے جبکہ بلوچستان میں مجوزہ اقتصادی زونز کے لیے تخمینہ لگانے کی ضرورت ہے۔

بورڈ آف گورنرز کی جانب سے بلوچستان میں فیزیبلٹی سٹڈی کی پیش کش کی گئی۔ گوادر میں فری زون پہلے ہی چینی حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ گوادر ان خصوصی اقتصادی زونز میں شامل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چین اور پاکستان نے گذشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، جس کے تحت 46 ارب ڈالر کی لاگت سے چین کو بذریعہ سڑک اور ٹرین گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔
کہانی کو شیئر کریں 

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160112_cpec_pakistan_western_route_sh?ocid=socialflow_facebook



No comments:

Post a Comment