Saturday, January 16, 2016

ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنے آئینی کوٹے سے آدھا حصہ یعنی 3فیصد حصہ مختص کیاگیا ہے

Jan 15, 2016
حال ہی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC)نے اپنی 2012-13ء رپورٹ شائع کی ہے کہ جس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنے آئینی کوٹے سے آدھا حصہ یعنی 3فیصد حصہ مختص کیاگیا ہے۔ جوکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے نہ صرف ناانصافی کے مترادف ہے بلکہ ان کے لئے تعلیم کے مواقع محدود کرنے کی سوچی سمجھی سازش تصور کی جاتی ہے۔

حالانکہ پاکستان کے آئین کے مطابق وفاقی اداروں میں بلوچستان کا 6فیصدکوٹہ مختص کردیا گیا ہے۔اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کو 8317اندرون اور بیرون ملک پی ایچ ڈی اور ایم فل میں سکالرشپ مہیا کی گئیں کہ جس میں بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات کے صرف12طلبہ کو یہ تعلیمی وظائف دیئے گئے جوکہ صرف0.14 فیصد بنتے ہیں۔


ایچ ایس سی کی جانب ڈیویلپمنٹ کی مد میں یونیورسٹی کو مالی گرانٹ دی جاتی ہے۔ اسی2012-13ء رپورٹ میں اس ڈیویلپمنٹ گرانٹ کی مد میں12ارب سے زائد کی رقم ادا کی گئی جس میں بلوچستان کی یونیورسٹیوں کے حصے میں صرف4.09% آئی ہے۔ اسی طرح پورے ملک میں تقریباً130تعلیمی ورکشاپس اور کانفرنسز منعقد کی گئیں۔


آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ پورے سال میں بلوچستان میں صرف ایک کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔


محترم صحافی حضرات!


ہمارے ملک کا آئین شق نمبر37(اے) اس بات پر زور دیتا ہے کہ ملک کے وہ علاقے جو تعلیمی اور معاشی حوالے سے دوسرے صوبوں کی نسبت کم پسماندہ ہیں ان علاقوں کے نوجوانوں کو زیادہ مواقع فراہم کی جانی چاہیے۔


جبکہ اس کے برعکس ملک کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے ( HEC) کے رویے سے نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ نوجوانوں میں احساس محرومی کی خلیج مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔


گزشتہ دنوں جب ایک صحافی نے اس مسئلے کو اجاگر کیا اور سیکرٹری تعلیم عبدالصبور کاکڑ کی ذاتی کوششوں سے ایچ ای سی کی جانب سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جوکہ اس بارے میں مزید چھان بین کرکے رپورٹ تیار کرے گی۔ اس کمیٹی میں سیکرٹری تعلیم کے علاوہ بیوٹمز کے وائس چانسلر، ایچ ای سی کے چیئرمین اور HEC ہی کے ایک نمائندہ رکن شامل ہیں۔بلوچستان کے دونوں اراکین اپنی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے اس معاملے کو زیادہ وقت نہیں دے پائینگے۔


اس لئے سول سوسائٹی یہ سمجھتی ہے کہ یہ ایک اچھی پیشرفت ہے لیکن ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں سرکاری بیوروکریٹس پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جوکہ اوپربیان کردہ کمیٹی کی معاونت کرسکے اور اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرے اور حقائق کو منظر عام پر لائے تاکہ بلوچستان کے ساتھ نارواسلوک کاسدباب کی جاسکے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھایا جاسکے۔


سول سوسائٹی بلوچستان و ایجوکیشن نیٹ ورک بلوچستان


SOURCE: Facebook

No comments:

Post a Comment