Thursday, November 26, 2015

ہتھیار پھینکنے والوں کے مسائل حل نہیں ہورہے ان کی قیمتیں لگائی جارہی ہیں - سردار اخترجان مینگل





بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن صوبائی اسمبلی سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ڈھائی سال مری معاہدے کی فکر اور آئندہ ڈھائی سال سوگ میں گزریں گے آری اور درخت کی نظر آنیوالی دوستی درحقیقت بلوچستان کیلئے بلکہ بڑھئی کے مفادات کیلئے ہے وزیراعلیٰ نے اب تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ وہ بااختیار ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے شملہ معاہدے کے چرچے سنے تھے مگر گزشتہ ڈھائی سے کانوں میں صرف مری معاہدے کی ہی آوازیں گونج رہی ہیں کیونکہ یہاں بلوچستان کے مسائل کے حل پسماندگی کے خاتمہ امن کی بحالی عوام کے طرز زندگی میں بہتری جیسا کوئی نعرہ بلند نہیں ہورہا آوازیں محض مری معاہدے کی ہی ہیں اور مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے ڈھائی سال مری معاہدے کی فکر جبکہ آئندہ ڈھائی سال اس کے سوگ میں گزریں گے یہاں بہتری کے دعوے کرنے والوں نے شاید کبھی غور سے دیکھا ہی نہیں کہ کس طرح ظلم جبر اور ناانصافیوں کا بازار گرم ہے ہر کسی کے دیکھنے کا اپنا انداز ہوتا ہے اور حکمرانوں کو یہاں گرتی لاشیں اب نظرآنا بند ہو چکی ہیں انہیں نظر بھی کیسے آئیں کیونکہ زرغون روڈ اور فائیواسٹار ہوٹل کی لابی میں لاشیں نہیں گرتی اور حکمران اس سے باہر نہیں آسکتے بلوچستان میں بلوچستان میں امن حالات کی بہتر ترقی اور خوشحالی کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں حکمران محض اپنے مفادات کی تکمیل کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں جبکہ بلوچستان کو مزید محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے دعویدار عوام کی طرز زندگی میں بہتری لانے میں ناکام رہے ہیں آری اور درخت کی دوستی ناکبھی تھی اور نا کبھی ہوسکتی ہے حال میں نظرآنے والی دوستی محض بڑھئی کی ضرورت کی وجہ سے ہے بلوچستان کو اس دوستی سے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں انہوں نے کہا کہ ہتھیار پھینکنے والوں کے مسائل حل نہیں ہورہے بلکہ ان کی قیمتیں لگائی جارہی ہیں اس امر پر غورہی نہیں کیا گیا آخر وہ اس راستے پر گئے ہی کیوں تھے اگر انہیں چند روپوں کی ضرورت ہوتی تو وہ اتنی قابلیت رکھتے تھے کہ وزیر بن جاتے تو کروڑوں کما سکتے تھے بلوچستان کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہاہے کہ یہاں بنیادی مسائل کی جڑ کو ختم نہیں کیا جاتا جو پالیسیاں آج مرتب کی گئی ہیں ماضی میں بھی ایسی پالیسیاں چلائی گئیں مگر اس کے کیا نتائج حاصل ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈھائی سال میں ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ وہ بااختیار ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اتحاد کے دعویداروں میں اتنا بھی اتحاد نہیں کہ اپنی اسمبلی کے اسپیکر کا چناؤ ہی کر لیں یہاں وزیراعلیٰ کی غیرموجودگی میں سی پیک کے معاہدے طے کر دیئے جاتے ہیں اور انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور اگر اب بھی حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بااختیار ہیں تو انہیں اپنی اسمبلی میں بلوچستان کے ساحل ووسائل پر اختیارات کے حصول کیلئے قرار داد پیش کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی جس قرار داد کو ایوان میں وزیراعلیٰ سمیت سب نے بھاری اکثریت سے منظور کروایا اس کا تحفظ تک نہیں کیا جارہا اور یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ کی بنتی ہے کہ وہ اپنی اس قرار داد کا تحفظ کرتے اور وفاق سے ساحل ووسائل پر اختیارات حاصل کرتے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ہمیشہ سے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کرتی رہی ہے نوشکی میں ہونے والا جلسہ اس بات کی غمازی کرتا ہے اہل بلوچستان بی این پی کے جھنڈے تلے یکجا ہو کر اپنے حقوق کا حصول چاہتے ہیں


SOURCE: Facebook

بندوق اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، بلوچستان کی محرومی مایوسی میں تبدیل ہوچکی ہے.
سردار اختر جان مینگل




بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی محرومی اب مایوسی میں بدل چکی ہے، ہتھیار ڈالنے والوں کو پیسے دیے جارہے ہیں،جب تک مقتدرہ قوتوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوگا حالات میں بہتری نہیں آئے گی اور نہ ہی مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔ وزیرداخلہ میرسرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بھارت ودیگر ممالک سے مدد مانگنے والے ریاست کے خلاف ہیں، حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں‘ ہتھیارڈالنے والوں کو پیسے نہیں دیے جارہے اب بھی مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، بلوچ ری پبلکن پارٹی نام کی کوئی جماعت پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران کیا۔ سردار اخترجان مینگل نے کہاکہ جن کو جمہوریت کے قائد کہا جاتا تھا ان کو ہی غدار کے القابات سے نوازا گیا اور ان پر قتل کے مقدمات بھی درج کیے گئے، انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پاس فیصلہ کرنے کے اختیارات نہیں، فیصلہ یہاں کی مقتدرہ قوتیں کرتی ہیں، انہوں نے کہاکہ پہاڑوں پر لوگ شوق سے نہیں جاتے ظلم وزیادتی جب بڑھتی ہے تو لوگ اس راستے کا چناؤ کرتے ہیں۔ سردار اخترجان مینگل نے کہاکہ ہتھیار ڈالنے والوں کو پیسے دیے جارہے ہیں یا کسی بھی طرح انہیں واپس بلایا جارہا ہے مگر بنیادی مسئلہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہے بلوچستان میں سیاسی بات چیت کو سنجیدگی کے ساتھ آگے نہیں بڑھایاجارہا اگر سنجیدگی ہوتی تو لوگ پہاڑوں پر نہ جاتے، اصل مسئلہ مقتدرہ قوتوں کے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا ہے جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوگا حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ صوبائی وزیر داخلہ میرسرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور جنرل عبدالقادر کو اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کا مینڈیٹ حاصل تھا اس لیے نوابزادہ براہمداغ بگٹی سے مذاکرات کیلئے گئے تھے‘ انہوں نے کہاکہ نوابزادہ حیربیار مری اور نوابزادہ براہمداغ بگٹی مذاکرات کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ وہ کبھی بھارت ودیگر ممالک سے مدد کی بات کرتے ہیں یہ ریاست کے خلاف عمل ہے مگر ہم پھر بھی کوشش کررہے ہیں کہ صوبے کے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بندوق اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے،دہشت گردی مذہب کے نا م پر ہو یا قوم کے ہم دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں، ناراض بلوچ کا لفظ اُس وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جب ناراض بلوچ ملک کے آئین میں رہ کر اپنی جدوجہد کریں اگر بندوق کی نوک پر بات کرینگے تو ہم انہیں ناراض بلوچ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ لاپتہ افراد کتنے ہیں یہ خود ایک ابہام ہیں اس پر فی الفور کچھ نہیں کہا جاسکتا ، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سوفیصد امن قائم کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے مگر ماضی کی نسبت اب حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔

 SOURCE: Facebook 




حکمران ہر حال میں بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں،
سردار اختر جان مینگل




بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل ، سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں پارٹی کے بارکھان کے سابق صدر وڈیرہ گلزار خان کھیتران اور ڈاکٹر فقیر حسین کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے رہنماؤں نے بڑی محنت ، قربانیوں سے پارٹی کو اپنے اپنے علاقوں میں مضبوط ، فعال اور متحرک کیا ان کی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی پارٹی کیلئے رہنماؤں نے بے شمار قربانیاں دیں انہوں نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے تاریخی جلسہ عام میں جس میں قبائلی ، سیاسی ، سماجی رہنماؤں نے شمولیت اختیار کی اس عظیم الشان تاریخی جلسہ عام کی قراردادیں جو پارٹی کے رہنماء حاجی وزیر خان مینگل نے پیش کیں درج ذیل ہیں آج کا جلسہ عام بلوچستان کے عوام کی قومی حق خود ارادیت کے جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے ،آج کا جلسہ عام دیگر محکوم اقوام ، مظلوم طبقات کی علاقائی امن و قومی و سماجی آزادی کی مکمل حمایت کرتی ہے ، آج کا جلسہ عام شہداء کو سرخ سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے بلوچستان کے دفاع ، بلوچ قوم کے قومی تشخص ،قومی حقوق کے حصول کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، آج کا جلسہ عام بلوچستان بھر میں سرچ آپریشن ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی ، ماورائے قانون گرفتاریوں کے ذریعے بلوچ نوجوان ، خواتین کو لاپتہ کرنے ، بلوچ قوم کو مسخ شدہ لاشیں تحفے میں دینے کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ لاپتہ افراد کو بازیابی یقینی بناتے ہوئے آپریشن بند کیا جائے آج کا جلسہ عام بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازشوں ،لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو جعلی دستاویزات کے اجراء کی مذمت کرتی ہے اور فوری مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور انہیں منسوخ کیا جائے اور مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے ، آج کا جلسہ عام گوادر جیسے منصوبوں کو بلوچوں کا معاشی قتل عام سمیت بلوچستان کی بددخلی کی سازش گردانتی ہے ، سیندک کولڈ پروجیکٹ ، ریکوڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ دیگر منصوبوں کو بلوچ قوم کے معاشی استحصال کے مترادف سمجھتے ہوئے ان معاہدوں کو منسوخی کا مطالبہ کرتی ہے یہ جلسہ عام ریکوڈک ، سیندک ، بلوچستان کے میگاپروجیکٹس کی بین الاقوامی قوانین کے تحت لیبر قوانین کی پامالی کی مذمت کرتی ہے اور بلوچستان میں بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کرنے اور بلوچ نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ، آج کا جلسہ عام وفاق میں بلوچستان کے کوٹے پر من پسند افراد کو جعلی لوکل سرٹیفکیٹ کے بنانے جانے والے منسوخ کئے جائیں ، بلوچستان میں دو عشروں سے جاری قحط سالی نے زراعت کو تباہ کر دیا ہے فوری طور پر قحط سے متاثر علاقوں کی معاشی بدحالی یقینی بنائی جائے یہ جلسہ عام معاشی بدحالی کم کرنے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے زیرو پوائنٹ قیام کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ، آج کا جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر حکومتی وزراء قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں انکے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے ، نوشکی کیڈٹ کالج کے نام پر عرصہ دراز سے فنڈز بٹورنے کا عمل جاری ہے جبکہ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر نوشکی کے نام پر مشینری کی انسٹالیشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائی جائے آج کا جلسہ عام نوشکی سمیت بلوچستان بھرمیں بنیادی انسانی ضروریات اور صحت کے متعلق ڈاکٹروں ، فزیشن ، پیرا میڈیکس کی کمی پورا کیا جائے آج کا جلسہ عام محکمہ پولیس ، لیویز ، پولیس ، ایجوکیشن ہیلتھ میں انٹرویو کے باوجود نوجوانوں کے عدم تعیناتی کی مذمت کرتی ہے ۔ ضلع نوشکی کے تین نئے تحصیلوں کا قیام کا مطالبہ کرتی ہے آج کا جلسہ عام کلی جمال آباد نوشکی میں انتظامیہ کی جانب سے گھروں کو مسمار کرنے کی مذمت کرتی ہے اور زمینوں پر قبائلیوں کے حق ملکیت کو تسلیم اور نقصانات کے ازالہ کا مطالبہ کرتی ہے ، آج کا جلسہ عام پولیس ڈی آئی جی چاغی رینج کے ہیڈ کوارٹر کی کوئٹہ منتقلی سے یہاں کے عوام مشکلات کا شکار ہیں جلسہ مطالبہ کرتی ہے کہ مستونگ ، دالبندین ، نوشکی پر مشتمل ہیڈ کوارٹر نوشکی میں منتقل کی جائے ۔
 SOURCE: Facebook



گوادر پورٹ کا اختیار بلوچستان کو نہ دیا گیا تو ترقی و خوشحالی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں بلوچستان میں کشت و خون ، نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں دے کر حکمران نفرت کے بیج بو رہے ہیں .
افغان مہاجرین کو بلوچستان میں آباد کیا گیا اب بلوچ قوم پر چائینز کو بھی مسلط کیا جا رہا ہے.
سردار اختر جان مینگل .




نوشکی: گوادر پورٹ کا اختیار بلوچستان کو نہ دیا گیا تو ترقی و خوشحالی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں بلوچستان میں کشت و خون ، نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں دے کر حکمران نفرت کے بیج بو رہے ہیں ان نفرتوں کے ذمہ دار بھی حکمران خود ہی ہیں جو اب بھی طاقت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ایسے حالات میں مہر و محبت کی امید رکھنا خام خیالی ہے ترقی کی جو راہیں لاہور کی طرف جا رہی ہیں ان سے بلوچستان کی نہیں پنجاب کی ترقی ہو گی اہل بلوچستان کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ضیاء کے دور سے ہی افغان مہاجرین کو بلوچستان میں آباد کیا گیا اب بلوچ قوم پر چائینز کو بھی مسلط کیا جا رہا ہے حکمران اپنے عمل اور پالیسیوں سے ثابت کریں کہ یہ ملک پنجابستان نہیں بلکہ پاکستان ہے بلوچستان میں جو آپریشن ، ظلم و جبر کے ہوتے ہوئے کوئی بھی باشعور ، باضمیر انسان مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں بیٹھ سکتا نوجوان تعلیم کو اپنا شعار بنائیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی آرگنائزر سردار اختر جان مینگل نے نوشکی کے فٹبال اسٹیڈیم میں تاریخ کے سب سے بڑے جلسہ عام سے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں اور خواتین نے شرکت کی سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، بی ایس او کے آرگنائزر جاوید بلوچ ، عبدالرؤف مینگل ، ساجد ترین ، آغا موسی جان ،بابو رحیم مینگل، ملک عبدالولی کاکڑ ، راشدہ بی بی ، مشعل مینگل ، ضلعی صدر نذیر احمد بلوچ ، میر بہادر خان مینگل ، میر خورشید جمالدینی ، حاجی وزیر خان مینگل ، حاجی ہاشم نوتیزئی ، عطاء اللہ بلوچ ، حمید بلوچ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ میں سب سے پہلے نوشکی کے غیور بلوچ فرزندوں ، ماؤں بہنوں کا دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے ہمیں اتنی عزت بخشی اور ہزاروں کی تعداد میں جلسہ عام میں شرکت کی میری دعا ہے کہ بلوچ فرزندوں اور خواتین کو رب العزت ان کے ننگ و ناموس اور عزتوں کی حفاظت کرے آج بابومحمدرحیم مینگل،محمداعظم بادینی،میرعزیزبادینی،سردارمحمداسماعیل خان ذگرمینگل،شیردل خان مینگل،میربالاچ خان جمالدینی،میرثناء اللہ جمالدینی،صاجزادہ موسی جان ،میرغلام حیدربادینی،سابق سیکرٹری عبدالسلام بادینی،سردارمحمدمرادجمالدینی،ارباب محمدعلی ،میونسپل کمیٹی کے چیرمین سردارمنظورپرکانی،ڈسٹرکٹ ممبرمیرعزیزمینگل،سابق ناظم میرحیدرخان مینگل،بابوستارساسولی،چوہدری سندیپ،سیٹھ رتن چند،کونسلرغفورمینگل،اعجاز مینگل،صالح ماندائی،رمضان زہری،حاجی اسماعیل بڑیچ،صوفی عبدالرحیم بڑیچ،ماماعبدلرسول پرکانی،جاویدجمالدینی شجاع جمالدینی،سردارعلی شیرامیرزئی،ایڈوکیٹ سیف اللہ مینگل،ایڈوکیٹ لیاقت مینگل،میرجمیل احمدمینگل،میرخدائیدادمحمدحسنی کی قیادت میں شامل ہونے والوں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی شامل ہونے والے6ہزار سے زائد فرزندوں کے نام لوں تو بہت لمبی فہرست ہو گی جو ممکن نہیں بلوچستان کے فرزندوں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے بی این پی میں ایسے وقت میں شامل اختیار کی جب بلوچستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے مشکل حالت کے باوجود عوام کی مہر و محبت جم غفیر کا یہاں پر شرکت کرنے سے یہ امر واضح ہوتی ہے کہ بی این پی کو کوئٹہ قوت ختم نہیں کر سکتی آج مثبت اور بڑی تبدیلی اس جلسے میں یہ دیکھنے کو ملی کہ بہت بڑی تعداد میں بلوچ خواتین جلسہ عام میں شرکت کر رہی ہیں جو مثبت تبدیلیوں ، شعوری سیاست کی نشاندہی کرتی ہے ہمیں اس سے پہلے بھی اپنے بلوچ خواتین کو سیاسی میدان میں لانا چاہئے تھا جو اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ جدوجہد کرتے تو اب تک تبدیلیاں رونما ہوتیں بی این پی ایک سیاسی قوت ہے جو بلوچستان کے کونے کونے میں فعال اور متحرک بنتی جا رہی ہے عوامی جوش و جذبہ بلوچی غیرت یہ ثابت کرتا ہے کہ جنرل مشرف کے قیدوبند ، موجودہ حکمرانوں کی سازشیں ، بڑی تعداد میں بلوچ فرزندوں ، پارٹی رہنماؤں شہید حبیب جالب بلوچ ، نور الدین مینگل ، حاجی لیاقت مینگل کی کمی مجھے اس جلسے میں محسوس ہو رہی ہے حکمرانوں نے ہمیشہ بلوچوں کو بے گور کفن مسخ شدہ لاشیں دی ہیں بی این پی کے ناقدین نے ہمیشہ یہ منفی تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بی این پی کمزور ہو چکی ہے اور قبرستان میں تبدیل ہو چکی ہے آج یہ آ کر دیکھیں کہ یہ عوامی سیلاب ، جم غفیر اگر قبرستان ایسے ہوتے ہیں تو یہ ہماری خوش نصیبی ہے بی این پی کو ظلم و جبر اور قیادت کو خون میں نہلانے کے باوجود پارٹی کو کمزور نہیں کیا جا سکا کیونکہ ایک ایسی قومی جماعت ہے اور اس میٹھی سرزمین جو شہداء کی سرزمین ہے میں سیاست کر رہی ہے شہداء جو اس سرزمین کے اصل وارث اور مالک ہیں 2013ء کے سلیکشن کے ذریعے جعلی مینڈیٹ ، ٹھپہ مافیا نے اقتدار تک تو رسائی حاصل کی وہ اس خام خیالی میں تھے کہ بی این پی ختم ہو چکی لیکن آج نوجوان بلوچ فرزندوں ، بزرگوں کے دلوں میں بی این پی راج کر رہی ہے خواتین کے بغیر شاید ہم منزل تک نہ پہنچ سکیں آج خواتین کی بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کی جس سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ خواتین بھی سرزمین بلوچستان کے ساتھ عہد کر رہے ہیں کہ وہ سرزمین بلوچستان کیلئے زندہ اور مرمٹنے کو تیار ہیں اور ہمیں راہ دکھانا کی کوششیں کر رہے ہیں بلوچستان میں ظلم و زیادتیاں جاری ہیں قدرت نے ہمیں بدقسمت پیدا نہیں کیا بلوچ سرزمین وسائل سے مالا مال ہے لیکن غیور بلوچ آج دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں عید کے دن بمشکل اپنے بچوں کیلئے ایک جوڑا کپڑا لے سکیں یا نہیں بھوک ، افلاس ، غربت ، جہالت کو ہمارا مقدر بنایا گیا ہے بلوچستان کے وسائل کو بلوچستان پر نہیں بلکہ دیگر جگہ استعمال کئے جا رہے ہیں جتنے حکمران آئے وہ کفن چور ہی ثابت ہوئے ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر یہاں لاکھوں کے تعداد میں افغان مہاجرین کو لا کر آباد کیا جنرل مشرف نے کہا کہ یہاں کوئی لشکر نہیں چلے گا ہزاروں لوگوں کو شہید کیا گیا بلوچوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اس کے باوجود بلوچستان کیلئے جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا آج بھی بلوچوں کا نماز جنازہ پڑھے بغیر ان کو دفنایا جاتا ہے کیا یہ جمہوریت اور اسلامی تبلیغات ہیں کہ بلوچوں کو جانور سے بھی کم حیثیت دی جا رہی ہے بلوچ فرزندوں نے اپنی سرزمین کیلئے ثابت قدم ہو کر ناانصافیوں ، ظلم و زیادتیوں کا خندہ پیشانی سے ہر دور میں مقابلہ کیا آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ترقی بلوچستان کو نہیں بلکہ قبرستانوں کو دی جا رہی ہے اب تو بلوچ خواتین کو بھی اغواء کیا جا رہا ہے اس سے پہلے فورسز چیک پوسٹوں پر بلوچ فرزندوں کی تزلیل کرتے تھے اب تو بلوچ خواتین کو بھی غائب کیا جا رہا ہے کیا یہ ظلم و زیادتی کے زمرے میں نہیں آتے جب فلسطین اور کشمیر میں ایسا کیا جاتا ہے کہ تو یہاں پر واویلا مچایا جاتا ہے لیکن بلوچوں کی اس چیخ و پکار کو کوئی نہیں سنتا کیا ان حالات میں بلوچوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں جب حکمران خود نفرت کا بیج بو رہے ہوں ظلم و زیادتی کر کے نفرتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے کیا بلوچ فرزندوں خواتین و بچوں سے مہرو محبت کی امید رکھتے ہیں ایسے حالات میں بلوچ کیسے مذاکرات کی میز پر آئیں جب انہیں یہاں کے حقیقی وارث نہ سمجھا جائے جب ترقی و خوشحالی ہمارے لئے نہیں تو میز پر کیسے آئیں گے گوادر کو کیسی ترقی دینا چاہتے ہیں 1998ء میں چاغی کو کوئی نہیں جانتا تھا مگر اس کے بعد چاغی کو تو لوگ جاننے لگے لیکن چاغی کے غیور بلوچ آج بھی پانی ، بجلی کوترس رہے ہیں سیندک کا سونا چائنا کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے کیا چاغی کو ترقی دی گئی کیا وہاں کے عوام کو سہولت دی گئی تعلیم فراہمی کی گئی آج گوادر کی ترقی کی باتیں کی جا رہی ہیں اب تو کارڈ بنا کر گوادر شہر میں انٹر ہونا پڑتا ہے 70سے زائد چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جیونی ، اورماڑہ ، پسنی کے غیور بلوچ اب بھی کارڈ دکھائے بغیر گوادر شہر میں داخل نہیں ہو سکتے کیا ایسے ترقی تصور کیا جائے یہ ترقی کس کیلئے ہے کیا یہ ترقی اسلام آباد ، پشاور ، لاہور ، کے لوگ تو اسلام آباد سے اجازت لے کر گوادر آئیں گے ہمارے غریب بلوچ جو نان شبینہ کے محتاج ہیں اسلام آباد جا کر کیسے اجازت لے کر اپنے آباؤاجداد کی سرزمین گوادر جانے کیلئے کارڈ اور اجازت نامہ حاصل کر سکیں کیا گوادر کی ترقی کو بلوچستان کی ترقی تصور کی جائے ساحل وسائل پر بلوچوں کا نہیں بلکہ پنجاب اور پنجابستان کا اختیار ہو گا ہم اسے بلوچوں کی ترقی نہیں سمجھتے ترقی یہ ہے کہ گوادر پر مکمل اختیار بلوچستان کا ہو غیور بلوچوں کو روزگار ، تعلیم ، صحت کی بہتر سہولتیں مہیا کی جائے ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین پر آباد اقلیت میں تبدیل نہ ہوں جب بلوچی دستار ،ننگ ناموس متاثر ہو گا اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے گا ہماری تاریخی آباؤاجداد کی سرزمین زبان و ثقافت کو متاثر کیا جائے گا تو ہم اس ترقی کی مخالفت کریں گے جب سندھ اور پشتونوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی تو ہم نے بحیثیت مظلوم قوم ان کا ساتھ دیا آج میں بلوچ نوجوانوں کو یہ کہوں گا کہ ہم سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں آج اکیسویں صدی میں اگر بلوچ نوجوانوں تعلیم پر توجہ دیں گے بحیثیت ایک باشعور تعلیم یافتہ قوم کے اکیسویں صدی کا مقابلہ کر سکیں گے ہم ایک باشعور ، مہذب ، علم و آگاہی سے آشنا ہو کر جدوجہد کرنا ہوگا تعلیمی ہنر کو بھی اپنانا ہو گا آج ہماری مائیں ، بہنیں ، بچیاں جو بیٹھی ہیں ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں کیونکہ ایک ماں پورے خاندان کی ذہنی اور شعوری نشوونما کرتی ہے سیاست ہم کریں گے نوجوان تعلیم سے آراستہ ہوں بی این پی کے مرکزی کونسل سیشن 28اور 29نومبر کو کوئٹہ میں منعقد ہو رہی ہے ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اپنے بلوچ نوجوانوں کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے بارے میں آگاہی دیں نوجوانوں کو علم و آگاہی کو اپنا شعار بنانا ہو گا،جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر جہانذیب جمالدینی نے کہاکہ میر گل خان نصیر کے ساتھیوں اور خاندان والوں کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ فکرے بی این پی کے ساتھ منسلک ہوئے، انھوں نے کہاکہ الیکشن کے وقت براہوئیت اوربلوچیت کاتعصب پھیلایاجاتاہے ہم انھیں واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ بلوچی اور براہوی ہماری شہد اور شیرین زبانیں ہے، انکو کوئی بھی طاقت ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتی ، جلسہ عام سے آغا حسن بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو نمبر جعلی قیادت اقتدار میں بیٹھی ہوئی ہے، لیکن گوادر کے بلوچوں کے بارے کوئی بات نہیں کرتا، کہ انکی کیا حالت ہے، انھوں نے کہا کہ بی این پی کے قائدین اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بلوچستان کے مفادات عزیز ہے، اقتصادی روٹ بلوچ قوم اور بلوچستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ گوادر کا اختیار بلوچستان کو دینا ہے، بلوچستان کا اصل ایشو اور مسئلہ چالیس لاکھ افغان مہاجرین ہے، جن کو مردم شماری اور خانہ شماری سے قبل انھیں انکے وطن بھیجا جائے،جلسے سے بی ایس او کے آرگنائزر جاوید بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سرفروش ہے وطن فروش نہیں، اقتدار میں بیٹھنے والے این ٹی ایس کے محنت سودا کیئے ، نوجوانوں کو مایوس کرکے انکے ارمانوں کا سودا لگایا گیا، تعلیمی ایمرجسنی کا یہ حال ہے، کہ جب کوئی ٹینلنٹ پیدا ہوتاہے تو انھیں دھمکی دیا جاتاہے کہ اگر آپ نے ٹیسٹ پاس کیئے توآپ کی حالت بھی پہلے والے نوجوانوں جیسا ہوگا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شہناز بلوچ ، جمیلہ بلوچ ، ثانیہ حسن کشانی ، شکیلہ نوید دہوار ، زینت شاہوانی ، فوزیہ مری ، فرزانہ بلوچ ، بشری رند ، منورہ سلطانہ ، نور جہان مینگل و دیگر بھی موجود تھیں کوئٹہ سے ملک نصیر احمد شاہوانی ، اختر حسین لانگو ، یونس بلوچ ، موسی بلوچ ، ملک محی الدین لہڑی ، اسد سفیر شاہوانی ، میر غلام رسول مینگل ،حاجی فاروق شاہوانی ، احمد نواز بلوچ ، حاجی خان محمد لہڑی ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ، لقمان کاکڑ ، رضا جان شاہی زئی ،ثنا مسرور بلوچ ، صاحبزادہ سیف اللہ ، شکور ایڈووکیٹ ، نصر اللہ بلوچ ، میر شاہنواز کشانی ، دالبندین سے ملک محمد ساسولی ، حاجی بابو محمد انور نوتیزئی ، محمد غوث بلوچ ، رحمت اللہ نوتیزئی ، یوسف ساسولی ، محمد بخش بلوچ ، پٹواری میر عبدالرحمان نوتیزئی ، خاران کے حاجی غلام حسین بلوچ ، ندیم بلوچ ، افتخار نوشیروانی ، غلام دستگیر ، نصرت مینگل ، صدام بلوچ ، منگچر سے میر منظور لانگو ، مستونگ سے منظور بلوچ ، غفار مینگل و دیگر کوہلو سے میر گامن خان مری ، عمران زرکون و دیگر،گوادر سے ڈاکٹر قدوس بلوچ وڈھ سے سابق ایم پی اے میر اکبر مینگل ،چنگیز گچکی ،میر جہانزیب مینگل، گوہرام مینگل و دیگر کراچی سے نے شرکت کی ۔

SOURCE:  Facebook

No comments:

Post a Comment