Saturday, August 8, 2015

ہتھیارڈالنے والے بلوچوں کیلئے پرامن بلوچستان منصوبہ کی منظوری


وقتِ اشاعت :  7 اگست2015
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے



کوئٹہ : وزیراعظم میاں نواز شریف نے بلوچستان میں ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے افراد کیلئے پرامن بلوچستان منصوبے کی منظوری دیدی۔ ہتھیار ڈالنے والوں کو مالی امداد اور مراعات دی جائیں گی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں قیام امن کیلئے صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ گوادر کاشغر سے بلوچستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ یہ باتیں انہوں نے کوئٹہ کے دورے کے موقع پر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں سے خطاب میں کہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور عبدالقادر بلوچ کے ہمراہ اسلام آباد سے خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالما لک بلوچ ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، کمانڈر سدرن کمانڈ ، چیف سیکریٹری بلوچستان ، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی صوبائی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کی کوئٹہ آمد پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ایئر پورٹ سے گورنر ہاؤس تک تمام راستے پر پولیس، ایف سی اور اے ٹی ایف اہلکاروں کے علاوہ سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ راستوں کی بندش کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں ترقیاتی منصوبوں اور امن وامان سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کی۔

گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کے علاوہ گورنر محمد خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر سرحدی امور جنرل عبدالقادر بلوچ، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ ، ڈی جی ملٹری آپریشن، ڈی جی ایم آئی، جنرل کمانڈنگ آفیسرز اور دیگر اعلیٰ سول و حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔ وزیراعظم کو بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ، دہشتگردوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اجلاس کے شرکاء کو ناراض بلوچوں کے ساتھ جاری مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

وزیراعلیٰ عبدلمالک بلوچ نے بتایاکہ جلا وطن بلوچ رہنماء خان آف قلات سے لندن میں قبائلی عمائدین اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نے ملاقات کی جس میں مثبت بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مذاکراتی عمل کی حمایت کی گئی اور اس عمل کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے صوبائی حکومت کی سفارش پر ‘‘پرامن بلوچستان منصوبے ’’کی منظوری دی۔ منصوبے کے تحت ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے والے افراد کو پانچ سے پندرہ لاکھ روپے ، بچوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر مراعات دی جائیں گی۔ منصوبے کیلئے تین ارب روپے رکھے جائیں گے۔ وفاقی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے بلوچستان کی مالی امداد کرے گی۔وزیراعظم کو تازہ ترین سیکورٹی صورتحال اور سماجی و سیاسی صورتحال کی بہتری کیلئے بلوچستان کے عوام کو شامل کرتے ہوئے وفاقی، صوبائی، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے حکام کی طرف سے شروع کئے گئے اقدامات کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جن میں وزیراعظم کی جانب سے منصوبوں کے افتتاح بھی شامل تھے۔ اجلاس نے بلوچستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور پراجیکٹس کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ امن وامان کے قیام کیلئے وفاق بلوچستان حکومت کی ہرممکن مدد کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے مستقبل کی ترقی کا محور ہے اور گوادر کاشغر اقتصادی راہدری کے تحت منصوبوں سے بلوچستان سب سے زیادہ فائدہ فائدہ ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کے استعمال کے ساتھ انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نیٹ ورک کے منصوبوں پر عملدرآمد ہو گا اور گوادر کی بندرگاہ کو ریل اور سڑک کے رابطوں کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملایا جائے گا۔ وزیراعظم نے گوادر پورٹ سٹی کی تعمیر اور گوادر کی بندرگاہ کو سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش اور اقتصادی مرکز بنانے کیلئے ایک حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے عوام کے پاس پہنچا جائے اور انہیں ترقیاتی عمل میں شراکت دار بنایا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کیلئے پرامن بلوچستان کے منصوبے کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے قومی ایشوز پر تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ بلوچستان کے عوام کی بہبود کیلئے جذبے کے ساتھ اچھے کام جاری رکھے جائیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دورہ کوئٹہ میں حال ہی میں مکمل ہونے والے سریاب فلائی اورر کا افتتاح کیا جس پر ایک ارب 81 کروڑ روپے کی لاگت آئے۔ اس منصوبے پر اپریل 2011ء4 میں کام شروع کیا گیا تھا۔

وزیراعظم زرعی یونیورسٹی ، اسمنگلی روڈ فلائی اوور اور مانگی ڈیم کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع ہونے والے یہ منصوبے دو سے تین سال میں مکمل کئے جائیں گے اور ان پر 15 ارب 94 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ وزیراعظم ، آرمی چیف،گورنر،وزیراعلیٰ اور دیگر حکام کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری نصیب اللہ بازئی نے بریفنگ دی اور بتایا کہ مانگی ٹیم کا منصوبہ تین سال کے عرصے میں مکمل ہوگا اور اس پر 9ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ ڈیم کی لمبائی 662 فٹ، بلندی 200 فٹ ہوگی جبکہ ریزور کیپسٹی 16455 فٹ ہے۔ جبکہ زرعی یونیورسٹی کا منصوبہ بھی تین سال میں مکمل ہوگا اور اس کے ایڈمنسٹریشن بلاک، فیکلٹی ، ڈیپارٹمنٹ کی تعمیر اور توسیع ، لائبریری، آڈیٹوریم ، میڈیکل سینٹر، کیفے ٹیریا اور ہاسٹل کی تعمیر کا کام کیا جائے گا۔

منصوبے پر چار ارب 58 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ سمنگلی فلائی اوور پر 1ارب 49 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے گورنر ہاؤس میں صوبائی وزراء ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف مختصر دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

http://dailyazadiquetta.com/2015/08/07/ہتھیارڈالنے-والے-بلوچوں-کیلئے-پرامن-ب/

1 comment:

  1. Baloch Council of North America (BCNA) WELCOME the announcement and asks all Baloch militants to take full advantage of this announcement and declare a unilateral cease fire, lay down their arms, shun the path of violence and militancy and join hands with the democratic forces to secure the Baloch genuine rights through peaceful and non-violent means of struggle.

    Balochs are patriotic Pakistani and they must work for the betterment of their country and not be misguided by few paid Indian agents who themselves are enjoying luxury life in Europe but want the ordinary Baloch to fight their dirty war of business. Balochistan needs peace and prosperity not war and violence.

    Those who incite violence and support terrorism in Balochistan are not friend of Baloch people but are the real enemies. They must be denounced, challenged, countered and defeated.

    ReplyDelete