Tuesday, August 18, 2015

بلوچستان میں سڑکوں کا جال


احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوادر


منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف حصوں میں کُل 870 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر ہونی ہیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت بلوچستان کے دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں پچھلے ڈیڑھ برسوں میں 500 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑکیں بنائی جاچکی ہیں اور کئی علاقوں میں پہلی بار سڑکیں اور پل بن رہے ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد گوادر کی بندرگاہ کو چین کے شہر کاشغر سے جوڑنا ہے۔
منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف حصوں میں کُل 870 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر ہونی ہیں جو اگلے برس دسمبر تک مکمل ہوں گی۔

لیکن دشوار گزار علاقہ ہونے اور سیکیورٹی کے مخصوص حالات کی وجہ سے یہ کام اتنا آسان نہیں۔ مزدور غیرمقامی ہیں اور کڑے پہرے میں کام کرتے ہیں۔

ان سڑکوں کی تعمیر پاکستانی فوج کا ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کررہا ہے۔ ادارے کے اہلکار لیفٹننٹ کرنل سید کاشف گیلانی نے بتایا کہ منصوبے پر57 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود منصوبے کی تکمیل کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’شروع میں کافی مشکلات درپیش ہوئیں۔ ہمارے جوان بھی شہید ہوئے اور پھر یہ علاقہ بھی ایسا تھا کہ ادھر چیزوں کی سپلائی مٹیرل آنا مشکل کام تھا۔‘


اس منصوبے کا مقصد گوادر کی بندرگاہ کو چین کے شہر کاشغر سے جوڑنا ہے

صوبہ بلوچستان کئی برسوں سے شورش اور بدامنی کا شکار ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے مگر پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران فوجی حکام کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں راکٹ اور بم حملوں سمیت 136 واقعات ہوئے جن میں اس منصوبے پر کام کرنے والے 16 اہلکار ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

گیم چینجر

ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاک چین راہداری منصوبہ تب ہی گیم چینجر ثابت ہو سکے گا جب بلوچستان میں شورش کے مسئلے کے سیاسی حل پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی۔

لیفٹننٹ کرنل کاشف نے بتایا کہ گوادر سے براستہ تربت ہوشاب تک سڑک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہورہا ہے اور سول ٹریفک اور ٹرانسپورٹ بھی بڑھ رہی ہے۔

’یعنی کہ پہلے اس سڑک پر لوگوں کا رات کے وقت سفر ممکن نہیں تھا لیکن اس ٹائم لوگ اپنی فیمیلز کے ساتھ بھی سفر کررہے ہیں جنہوں نے یہاں سے کراچی کی طرف جانا ہوتا ہے اور لوگ اکیلے اپنی گاڑیوں میں بھی سفر کررہے ہیں۔‘

پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں ان سڑکوں کی تعمیر کے دوران فوجی حکام کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں راکٹ اور بم حملوں سمیت 136 واقعات ہوئے

ایف ڈبلیو او کے مطابق اس منصوبے پر 9000 افراد مامور ہیں جن میں تین انجینیئر بٹالین بھی شامل ہیں اور انہیں پاکستانی فوج اور فرنٹیر کور سیکیورٹی فراہم کررہی ہے۔

یہ سڑکیں صوبے کے مختلف حصوں میں ٹکڑوں میں بن رہی ہیں۔ سڑکیں بننے سے جہاں فاصلے کم ہورہے ہیں وہیں مقامی تاجروں کو بھی کاروبار میں بہتری کی امید ہے۔

تربت میں مقیم کھجوروں کے باغات کے مالکان کی تنظیم شاہ حیدر کہتے ہیں کہ’بڑے شہروں سے ہم اتنے دور نہیں ہیں مگر روڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہم کافی دور محسوس کرتے تھے۔‘

روڈ بننے سے ہماری کھجور مارکیٹوں تک پہنچ جائے گی: شاہ حیدر

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے یہاں لاکھوں ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے مگر مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری 50 فیصد سے زیادہ کھجور خراب ہوجاتی ہے تو اب روڈ بننے سے یہ ہمیں فائدہ مل جائے گا کہ ہماری کھجور مارکیٹوں تک پہنچ جائے گی۔‘

بلوچستان کی حزب اختلاف کہتی ہے کہ صوبے کے حقوق کا معاملہ آج بھی حل طلب ہے اور اسی سے شورش کو ایندھن ملتا ہے۔

گوادر میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے رہنما ڈاکٹر عزیز کہتے ہیں: ’اگر کاشغر سے یہاں تک ترقی کی بات ہورہی ہے اور ترقی کا کام ہورہا ہے تو پھر ترقی کا تو بنیادی یونٹ ہی ہم ہیں مگر ہمیں اس پورے منصوبے سے دور رکھا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں اور بھی دور رکھا جائے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ کالی روڈ ہو یا کوریڈور ہو اسکا فائدہ ہمیں نہیں ملے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا سیاسی مسئلہ اہم ہے اور اسکا سب سے پہلا حل یہ ہے کہ لوگوں کو غائب کرنا اور لاشیں گرانا بند کرنا ہوگا۔ لوگوں کو کھینچ کر میز پر لانا ہوگا ان کے ساتھ پیار سے بات کرنا ہوگی اور بلوچستان کے سیاسی لوگو ں اور قیادت کو مارنے کے بجائے انھیں قریب لانا ہوگا۔

پاکستان کہتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ملک اور خطے کے لیےگیم چینجر ثابت ہو گا مگر کئی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ایسا تبھی ممکن 
ہے جب بلوچستان میں شورش کے مسئلے کے سیاسی حل پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150818_balochistan_road_construction_hk?ocid=socialflow_facebook

No comments:

Post a Comment