Wednesday, July 1, 2015

MQM should be labeled a terrorist organisation, banned: Balochistan home minister

By Zafar Baloch

 June 30, 2015

Balochistan Home Minister Mir Sarfaraz Bugti on Tuesday demanded that the Muttahida Qaumi Movement (MQM) be labeled a terrorist organisation and banned over its alleged involvement in anti-state activities.

“MQM should be declared a terrorist organisation after the BBC’s report has exposed its nexus with RAW,” the minister said, while addressing the media.

Read: Balochistan unrest: FC nails six alleged insurgents in separate raids

The minister also accused India’s premier spy agency, RAW, of creating unrest in Balochistan. “India’s RAW is behind terrorist activities in Balochistan and Karachi,” he added.

“There have been evidences of RAW’s involvement in terrorist activities in the country.”

Bugti went on to add that evidence of RAW’s involvement in Karachi has also come to light. He said the government will take every step for the betterment of the people of Balochistan.

Responding to a question, the minister said, “Pakistan and Afghanistan are entering  a new era of relations with both countries following the same policy on curbing terrorism.”

“Terrorism must not be tolerated by Pakistan and Afghanistan,” he said, urging the leadership of both the countries to increase coordination.

Read: Counter militancy: TTP local chief surrenders in Ziarat

Speaking on security forces operations in the province, the provincial home minister said successful operations have been carried out in Qilla Abdullah, Dera Murad Jamali, Bhag, Khanozai Pishin.

Bugti said the people of the province and their property will be protected under all circumstances. “Terrorism in Balochistan will be wiped out from its roots,” he said, while commending the performance of police and FC.


At least 13  Baloch citizens were killed during a search operation carried out by security forces in Awaran district of Balochistan.

According to official sources, Frontier Corps carried out a search operation against the Balochistan Liberation Front in Awaran. Thirteen militants, including the brother and nephew of BLF leader were killed in the operation.


Earlier on Monday, up to 20 militants were killed in clashes between two rival armed groups in Peer Masori area of Dera Bugti. According to a source in the security forces, the Baloch Liberation Army militants had attacked the United Baloch Army’s Karam Khan Camp in Peer Masori area. As a result of the attack, as many as 20 people were killed in the exchange of firing that lasted for couple of hours.

http://tribune.com.pk/story/912237/mqm-should-be-labeled-a-terrorist-organisation-banned-balochistan-home-minister/


کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک توڑنے کی سازش بلوچستان سے کراچی تک پہنچ گئی ہے۔ خانوزئی، قلعہ عبداللہ، ڈیرہ مراد جمالی اور بولان میں دہشتگردی کی بڑی کوششیں ناکام بنادی گئیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ان کا شروع سے ہی یہ مؤقف تھا کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں را ملوث ہے۔ اب بی بی سی کی رپورٹ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ایم کیو ایم کو بھی بھارت فنڈنگ کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک توڑنے کی یہ سازش صرف بلوچستان میں ہی نہیں ہو رہی بلکہ کراچی تک پہنچ چکی ہے۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پیر کی شب بلوچستان کے ضلع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں بیس افراد کی ہلاکت دو کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے درمیان تصادم کا نتیجہ ہے۔دونوں تنظیمیں دو حیربیار مری اور زامران مری کی ہیں جو آپس میں بھائی ہیں۔ تیسری تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کے سربراہ براہمداغ بگٹی ہیں جو اس جنگ میں یو نائیٹڈ بلوچ آرمی کو سپورٹ کررہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ڈی آئی جی ایف سی بلوچستان بریگیڈئیر طاہر محمود بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران حساس اداروں کی نشاندہی پر فرنٹئر کور بلوچستان، پولیس اور اے ٹی ایف نے قلعہ عبداللہ، پشین، ڈیرہ مراد جمالی اور بولان میں کارروائیوں کے دوران بھاری مقدا ر میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ۔قلعہ عبداللہ میں کارروائی کے دوران تین اسلحہ اسمگلر بھی گرفتار کئے گئے۔ کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے سرفراز بگٹی نے بتایا کہ 20جون کو قلعہ عبداللہ کے علاقے مجک میں03اسلحہ اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔ان اہتھیاروں میں سینکڑوں راکٹ لانچر کے گولے، 74عدد راکٹ لانچر ز کے فیوز۔ راکٹ لانچرز ، 02عدد ایس ایج جیز بمعہ 850راؤنڈز ، 02عدد تھری ناٹ تھری رائفلز بمعہ 4680راؤڈز ،چائنہ رائفلز بمعہ 30راؤنڈز بارہ بور رائفلز بمعہ 100 راؤنڈ ز اور 07میگزین اور دوربین شامل ہیں۔ 24جون کو پشین کے علاقے خانوزئی میں سیکورٹی اداروں نے خیبر پختونخواء سے بلوچستان میں دہشتگردوں کو اسمگل کئے جانے والے دیسی ساختہ آئی ای ڈی میں استعمال ہونے والے باردودی مواد اور اسلحے کی بھاری تعداد کو برآمد کرلیاگیا۔ جس میں 60عدد کلاشنگوفیں ، مختلف ساخت کے 204پستول، ہزاروں کی تعداد میں ایل ایم جی راؤنڈز 245عدد پستول میگزین اور233مختلف ساخت کے اسلحہ جات کے سپیئر پارٹس شامل ہیں۔ 24جون کو فرنٹئر کور بلوچستا ن نے حساس اداروں کی اطلاعات پر دومختلف کارروائیوں میں ڈیرہ مراد جمالی میں دہشتگردوں کیخلاف سرچ آپریشن کرتے ہوئے بھاری مقدارمیں خود کا رہتھیار برآمد کئے جن میں 01عدد آرپی جی سیون، 03 عدد راکٹ کے گولے 04عدد مختلف بور کے رائفلز بمعہ 450راؤنڈز اور مختلف اقدام کی دروبینیں ہیں۔ 28 جون کو ایک اور کارروائی میں ایف سی نے حساس ادارے کی اطلاع پر بولان کی تحصیل بھاگ میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارتے ہوئے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔ برآمد شدہ اسلحے میںآرپی جی سیون بمعہ 05گولے 02عدد چائنیز ایل ایم جی ،04عدد ایس ایم جیز05رائفلزتھیر ناٹ تھیر بمعہ 650راؤنڈز 09عدد بارہ شارٹ گن بمعہ 135راؤنڈ ز 03عدد کلاشنکوف بمعہ 03میگزین اور1400راؤنڈز ، 04عدد سیون ایم ایم گن بمعہ 280راؤنڈز 01رپیٹر ،1300راونڈز سنائپر اور ایک عدد ڈبل کیبٹن گاڑی شامل ہیں ۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ کامیاب کارروائیوں پر ایف سی ، حساس اداروں اور پولیس مبارکباد کی مستحق ہیں ۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ بلوچستان حکومت ان اداروں کی بھر پور معاونت کرے گی۔ اس طرح کی کامیاب کارروائیوں پر بلوچستان حکومت اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسی طرح پروایکٹیو اپروچ رہے گی تو انشاء اللہ بلوچستان میں دہشتگردی کو جلد جڑ سے ختم کردیں گے۔ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کی سرحدی پٹی پر کالعدم تنظیموں کے درمیان جھڑپ سے متعلق سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سرکاری طور پر ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم میں قبائلی سطح پر ملنے والی اطلاعات آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں، یہ دو بھائی زامران اور حیربیار مری ہیں ان کے دونوں دو گروپس ہیں جو کالعدم تنظیمیں ہیں ایک بی ایل اے اور ایک یو بی اے،اسی طرح بی آر اے کا یو بی اے کے ساتھ تعاون ہے۔ گزشتہ روز بی ایل اے اور یو بی اے کی لڑائی ہوئی جس میں بیس کے قریب دہشتگرد آپس میں مارے گئے۔ یہ دور دراز علاقہ ہے،ہماری فورسز چاہتی ہیں کہ وہاں سرچ آپریشن کریں تاکہ تاکہ حقائق معلوم کرسکے۔ چمن سے عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایف سی نے دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ چونکہ ایف سی وفاقی فورس ہے اور وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔ اس لئے ملزمان کو وزارت داخلہ کے حوالے کردیا ہے۔ ہوسکتا ہے وہاں برطانوی تفتیشی ادارہ اسکاٹ لینڈ یارڈ بھی ان سے تفتیش کرے۔ سرفراز بگٹی نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس بات کا گواہ ہیں کہ میں وہ پہلا شخص تھا جو عوام میں آکر کھلے عام کہتا تھا کہ یہاں دہشتگردی میں بھارتی خفیہ ادارہ را ملوث ہے۔ اب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایم کیو ایم سے متعلق جو ایک ڈاکٹومینٹری چلائی ہے اس سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ اس تنظیم کو بھارتی خفیہ ادارے کی مدد حاصل تھی۔ ایم کیو ایم کو اب دہشتگرد تنظیم قرار ڈکلیئر کردینا چاہیے اور اس پر پابندی لگانی چاہیے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں ایم کیو ایم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں۔ پاکستان توڑنے کی جو سازشیں ہورہیں وہ صرف بلوچستان میں نہیں یہ آپ کو کراچی میں بھی نظر آرہی ہیں۔ اایرانی فورسز کی جانب سے پنجگور میں مارٹر گولے داغنے کے سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایرانی حکومت کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔چیف سیکریٹری، آئی جی ایف سی اور صوبائی سیکریٹری داخلہ کی سطح پر وفود جاتے رہتے ہیں۔ ہم کسی ملک کے اندر دہشتگردی کیلئے اپنی سرحد استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔ اور کسی دوسرے ملک سے بھی یہی چاہتے ہیں۔۔ ہمسایہ ملک کے اندر بھی انسرجنسی چل رہی ہے اور وہ اسے کاؤنٹر کرتے رہتے ہیں ہیں۔ بعض اوقات دراندازی بھی ہوجاتی ہے لیکن اس کو اعلیٰ فورم پر اٹھایا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں سیکورٹی انتظامات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں دہشتگردی کی ایک لہر آئی تھی۔ ایک طرف پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور دوسری طرف فرقہ وارانہ بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے تدارک سے متعلق ہمیں بڑا بریک تھرا ملا ہے اور وقت آنے پر اس کامیابی کو میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی خفیہ ادارے را اور افغان خفیہ ادرے این ڈی ایس کی ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ہماری فورسز ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ ہم معصوم شہریوں اور فورسز کے اہلکاروں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔ کوئٹہ میں سیکورٹی کی بہتری کیلئے ہم نے پروایکٹو اپروچ رکھنی ہے۔ عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے فورسز کی تعیناتی اور چیک پوسٹوں کے قیام سمیت تمام اقدامات کریں گے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں شرپسندوں کو دشمن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے جوکہ درپردہ دوسری قوتوں کے ساتھ ملکر کر پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں شورش پیدا کرکے اس کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے شرپسندوں کو اسلحہ وگولہ بارود ، تربیت اور مالی و سائل بھی فراہم کر رہے ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم دشمنوں کو ان مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور بلوچستان کو ایک پرامن اور مثالی صوبہ بنانے میں کوئی کسر روا نہیں رکھیں گی۔ شرپسندوں کے مذموم مقاصد کے خلاف آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا۔ جب تک ہم بلوچستان میں عوام کی جان ومال اور آبرو کو یقینی نہیں بنا لیتے۔ پاک افغان تعلقات سے متعلق سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں نیا موڑ آیا تھا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت سیاسی اور عسکری قیادت نے افغانستان کے دورے دورے کئے انٹیلی جنس حکام کئے گئے۔ یہ دونوں ملکوں کے کیلئے بہت ضروری ہے کہ کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جائے۔ ہماری یہی پالیسی ہے اور افغانستان کی بھی۔ باوجود اس کے دونوں ممالک کو بہت بڑی بڑی سازشوں کا سامنا ہے ہم نے نئی ابتدا کی ہے اس کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے لندن میں مقیم ناراض بلوچ رہنماء خان آف قلات سے مذاکرات کے سوال پر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی وزراء خان آف قلات سے ملنے ملنے جارہے ہیں یقیناًوہ حکومت کی طرف سے جارہے ہیں اور ان سے مذاکرات کریں گے ۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایف سی بریگیڈیئر طاہر محمود کا کہنا تھا کہ حالیہ ناخوشگوار واقعات کے بعد ہم نے کوئٹہ کی سیکورٹی کا از سرنو جائزہ لیا ہے اور کوئٹہ کے کمرشل زون میں نئے اقدامات کئے ہیں ، سیکورٹی کا نیا میکنزم بنایا ہے جس کی مدد سے ہم نے کوئٹہ کو فول پروف سیکورٹی دینے کی کوشش کی ہے تاکہ رمضان اور عید کیلئے لوگ بلا خوف و خط اور تحفظ کے احساس کے ساتھ خریداری کرسکیں۔ امید ہے کہ ان اقدامات سے کوئٹہ کے حالات بہتر ہوں گے۔


http://dailyazadiquetta.com/2015/07/01/ایم-کیو-ایم-دہشتگرد-تنظیم-ہے-پابندی-لگا/


No comments:

Post a Comment