Thursday, July 2, 2015

آواران سمیت بلوچستان میں حکمران آپریشن کے ذریعے بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور ان کے خون کے ساتھ ہولی کھیل کراپنی حکمرانی کو دوام دینا چاہتے ہیں. بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل


بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے مذمت میں کہا گیا ہے کہ آواران سمیت بلوچستان میں حکمران آپریشن کے ذریعے بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور ان کے خون کے ساتھ ہولی کھیل کراپنی حکمرانی کو دوام دینا چاہتے ہیں لفاظی حد تک تو حکمرانوں کے بقول حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں جبکہ عملا بلوچستان میں بے گناہ انسانوں کے خوف کے ساتھ ہولی کھیلنے سے بھی حکمران گریزاں نہیں ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے اب بھی طاقت کا سہارا لے کر حکمران بلوچستان کے معاملات کو حل کے خواہاں ہیں انسانی حقوق کی پامالی روا کا معمول بن چکا ہے اکیسویں صدی میں باشعور عوام کو لفاظوں کے ہیر پھیر سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا عملی طور پر بلوچستان میں بے گناہ انسانوں کے قتل و عام کا سلسلہ تھمنے کی بجائے اس میں تیزی لائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ بے گناہ بلوچوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیل کر صوبائی حکومت اپنی حکمرانی کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے نہتے اور معصوم بلوچوں کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کی بدولت حکمرانوں کو دوام دینا قابل مذمت عمل ہے گزشتہ روز آواران کے علاقے میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے بھائی، بھتیجے اور بھانجوں سمیت بے گناہ نہتے بلوچوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں حکمران اب بھی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جبکہ نام نہاد قوم پرست اپنی کرسی کو بچانے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور ظلم و بربریت کے ذریعے بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ٹھان لی ہے تاکہ ان کی حکومت کو دوام مل سکے پارٹی معاشرے میں نہتے معصوم بے گناہوں کے قتل عام کی ہمیشہ مذمت کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کو طاقت کے ذریعے صفحہ ہستی سے ختم کرنا مسائل کا حل نہیں نہ ہی قوموں کو ظلم و بربریت سے ختم کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد ان کی کوشش رہی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی ، آپریشن ، مسخ شدہ لاشوں کے عیوض اپنی ناکام نااہل حکمرانی کو طول دے کر اقتدار پر براجمان رہیں جب ہم کہتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ مزید بحرانی حالات سے دوچار ہے تو حکمران یہ کہتے نہیں تھکتے کہ بلوچستان کے معاملات میں بہتری آئی ہے جب کہ اب عملی طور پر بلوچستان کے ہر ذی شعور اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کو بخوبی علم ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں اب بھی سرچ آپریشن کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ روایات کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ہماری کوشش رہی ہے کہ ان عقل کے اندھے حکمرانوں کو بتائیں کہ عملا بلوچستان میں حالات ابتری کی جانب جا رہے ہیں لیکن انہوں نے جو حالات کی بہتری کی رٹ لگا رکھی ہے آج ایک بار پھر بلوچستان میں بے گناہ بلوچوں کا خون بہایا جا رہا ہے تاکہ اقتدار کے مزید لوٹے جا سکیں انہوں نے کہا کہ بزور طاقت مظلوم بلوچ قوم کو زیر کرنا ممکن نہیں معاشروں میں ایسے بے جا طاقت کا استعمال سے مسائل کا حل ممکن نہیں بلوچستان کا معاملہ سیاسی ہے لیکن حکمران اب بھی انہی آمر حکمرانوں کے نقش قدم پر گامزن ہیں اور اب بھی مظالم اور بربریت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں حالانکہ ماضی کے حالات و واقعات ملحوظ خاطر رکھ کر دیکھتے تو حالات کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کرتے بلوچستان کے حکمران بلند دعوے کرنے سے پیچھے نہیں دکھائی دیتے جبکہ عملا بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل و غارت گری ، مسخ شدہ لاشیں ، بلوچ سرزمین میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام ، چادر و چار دیواری ، بلوچ روایات کے برخلاف اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ایسے آپریشن ، مظالم جس میں بے گناہ بے دردی سے مارے جا رہے ہیں پارٹی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے پارٹی بلوچستان کی حقیقی قومی و جمہوری جماعت ہے ہم بلوچستان میں ہر قسم کے ظلم و زیادتیوں جس میں بے گناہ نہتے انسانوں کا لہو بہایا جائے اس کی مذمت کو اولیت دیں گے اور کسی کو یہ اختیار نہیں ہونی چاہئے کہ وہ آمر حکمرانوں کی طرح اسی روش پر گامزن رہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو ماضی میں ظلم و زیادتیوں اور موجودہ دور میں بے دردی کے ساتھ انسانوں کی قتل و غارت گری کی جا رہی ہے اس سے بحرانی کیفیت کو ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ قوموں کو اس طریقے سے پیچھے دھکیلنے کی پالیسی سے کبھی مسائل کو حل نہیں کیا جا سکا -

https://www.facebook.com/BNP.Balochistan/photos/a.187761988041894.1073741828.187757631375663/523449101139846/?type=1&theater


بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں آپریشن اور طاقت کا سہارا لینے سے گریز کیا جائے انسانی حقوق کی پامالی بند کی جائے کیونکہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہو سکتے سرچ آپریشن بلوچ روایات کے برخلاف اقدام ہے بے گناہ نہتے معصوم بچوں کا خون بہانے سے گریز کیا جائے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گوادر ‘ پسنی اور ساحل بلوچستان میں سیٹلمنٹ کے نام پر بلوچ قوم کے فرزندوں ‘ زمینداروں کی جدی پشتی آباؤاجداد کی زمینوں کو سرکاری جدائیداد ظاہر کر کے حکمران اپنے جیالوں اور بیورو کریسی کے قریبی رشتہ داروں کے ناموں پر الاٹ کرنے کی پالیسی بنائی جا چکی ہے اور اب حکمران انتظامیہ کے ارباب و اختیار و پٹواریوں کے ذریعے گوادر ‘ پسنی ‘ جیونی اور دیگر علاقوں میں بلوچوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی پالیسی بنائی جا چکی ہیں حالانکہ یہاں حکمران جب گوادر اقتصادی روٹ سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس میں روٹس کے تعین کے بعد صوبائی حکمرانوں نے چپ ساد رکھی ان کے اس عمل پالیسی اور خاموشی سے پہلے ہی پارٹی کے خدشات میں اضافہ ہوا کہ انہوں نے گوادر میں ہزاروں سالوں سے رہنے والے بلوچ فرزندوں کے بنیادی حقوق ‘ پسماندگی ‘ بدحالی ‘ ماہی گیروں کے فلاح و بہبود کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے عوام اکیسویں صدی میں صاف پانی سے محروم ہیں تعلیمی اداروں کا فقدان انسانی بنیادی ضروریات نہ ہونے اور جو تحفظات پارٹی نے کئی سال قبل کی تھی کہ گوادر میگا پروجیکٹس سے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے پر تحفظات تھے اب وہ یقینی دکھائی دے رہے ہیں حکمرانوں نے ابھی سے زمینوں و املاک پر قبضہ گیری ‘ بلوچوں کو ساحل بلوچستان سے بے دخل کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ گوادر پورٹ اور میگا پروجیکٹس کے اختیارات بلوچستان کے دیئے جاتے اور بلوچوں کو اپنی تاریخی سرزمین پر اقلیت تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے قانونی سازی ‘ حکمت عملی اپنائی جاتی لیکن اقتصادی روٹ کے بعد حکمرانوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گوادر کے غیور بلوچوں کے مسائل حل ہو چکے ہیں حالانکہ پارٹی کے سامنے روٹ ثانوی حیثیت رکھتی ہے اصل مسئلہ گوادر کے عوام کی حقیقی ترقی و خوشحالی اور اپنی سرزمین پر حق ملکیت اور حق حاکمیت دلوانا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی ترقی و خوشحالی کی ہرگز مخالف نہیں لیکن ہماری قومی بقاء ‘ تشخص ‘ زبان ‘ ثقافت ‘ تاریخ و تمدن کو خطرہ لاحق ہو ایسی ترقی نہیں چاہتے بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کا اصولی موقف ہے کہ گوادر پورٹ کے تمام اختیارات بلوچستان کو دیئے جائیں وہاں پر چھوٹی اور بڑی ملازمت تک گوادر ‘ مکران اور پھر بلوچستان کے لوگوں کو تعینات کیا جائے اور وہاں پر تعلیمی پسماندگی کے خاتمے ‘ انسانی ضروریات کے تمام وسائل مہیا کئے جائیں حکمرانوں نے جو سیٹلمنٹ کے نام پر بلوچوں کو اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنے کیلئے کی ہے ایسی پالیسی کو ترک کیا جائے پارٹی کی جانب سے کل 5جولائی کو کوئٹہ ‘ نوشکی ‘ چاغی ‘ خاران ‘ بسیمہ ‘ واشک میں غیر قانونی طریقے سے بلوچوں کے زمینوں پر قبضہ کرنے اور صوبائی حکومت کی ناروا پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔

SOURCE: Facebook

No comments:

Post a Comment