Wednesday, July 1, 2015

مشکے میں فورسز کا آپریشن ، ڈاکٹر اللہ نذر کے بھائی اور بھانجے سمیت14افراد جاں بحق


وقتِ اشاعت: جولائی 1 – 2015
اسٹاف رپورٹر

کوئٹہ:  بلوچستان کے ضلع آوران میں سرچ آپریشن کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کے بھائی اور دوبھانجوں سمیت چودہ ارکان جاں بحق ہوئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے۔کارروائی کے دوران نو عسکریت پسندوں کو گرفتار کرکے اسلحہ بھی برآمد کیاگیا۔ ایف سی ترجمان کے مطابق فرنٹیئر کور بلوچستان اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے آواران کی تحصیل مشکے میں میہی اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا جس میں سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف ) کے اہم کمانڈروں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کئے گئے آپریشن میں ایف سی کو وزارت داخلہ کے ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی حاصل تھی۔ ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ڈاکٹر اللہ نذر کے آبائی گاؤں میہی کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا ۔ ا س دوران سیکورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسندوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہو اجو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ایف سی ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے تیرہ ارکان مارے گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا بھائی کمانڈر سفر خان، بھانجا کمانڈر سلیمان عرف شہیک اور کمانڈر خیر جان شامل ہیں ۔


 ایف سی ترجمان کے مطابق بالاچ اور شاہ جہان نامی کمانڈرز زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ڈاکٹر اللہ نذر کے بھائی ماسٹر سفر خان، دو بھانجے سلیمان عرف شہیک اور ذاکر بلوچ کے علاوہ رمضان بلوچ، علم خان بلوچ شامل ہیں۔ترجمان ایف سی کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار حوالدار شاہد جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔جاں بحق حوالدار کو سینے پر ایک گولی لگی تھی ۔ جبکہ زخمیوں میں سپاہی وسیم بابر کو ایک گولی ران میں، سپاہی ماجد کو دائیں پاؤں، سپاہی محمد حسین کو ایک گولی سینے جبکہ سپاہی حفیظ اللہ کو ایک گولی دائیں پاؤں پر لگی ہے ۔ ایف سی ترجمان کے مطابق ہلاک اور زخمی ملزمان چھ جون کو مشکے کے علاقے کپر میں سات بے گناہ افراد کو قتل کرنے کے علاوہ سترہ خواتین اور تیس بچوں کو یرغمال بنانے میں ملوث تھے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران نو عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا جن میں بادل خان ولد ولی محمد، عطاء ، شفیع سکنہ ،ماسٹر ناصر علی ،محمد خیر ،محمد عظیم ،یوسف خان ، بدل ولد رضا محمد ، اللہ نذر ولد اسماعیل شامل ہیں ۔گرفتار افراد مشکے کے علاقوں میہی ،نوکجواورپیر پکی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں ۔ ہلاک و گرفتار عسکریت پسندوں سے دو عدد جی تھری رائفلیں ، دو عدد کلاشنکوف، ایک سیٹلائٹ فون ، چار عدد واکی ٹاکیز ،چار دوربنیں اورچھ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں ۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کالعدم علیحدگی پسند بلوچ تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں اور ان کا تعلق آواران کے علاقے مشکے سے ہیں وہ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو مطلوب ترین افراد میں سر فہرست ہیں ۔ان پر سیکورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں ، قومی تنصیبات پر حملوں سمیت دہشتگردی کے 

http://dailyazadiquetta.com/2015/07/01/مشکے-میں-فورسز-کا-آپریشن-،-ڈاکٹر-اللہ-نذ/

2 comments:

  1. Baloch Council of North America strongly condemn the FC's unwarranted raids and search operations in Balochistan. These raids and search operations are not only counter productive but also they will not yield any positive results or help in to bring peace and stability in the province. We ask the FC to immediately release the innocents in custody and exercise restraint in using force against the local population at large. Not every one in Balochistan should be labeled as a terrorist until proven guilty by the court of law. Due process of law must be upheld and followed in any circumstances at all cost and no one, including the FC, should be immune or above the law. We also ask the Baloch militants to immediately declare a unilateral cease fire, end their war, lay down their arms and use only democratic and peaceful means of struggle to secure the Baloch genuine rights within the federation.

    ReplyDelete
  2. Balochistan problem is a political one and should be solved as such peacefully. We urge the security forces to exercise restraint and not use force against the Baloch population at large as these acts will not produce any result but will invite more foreign meddling and intervention.

    Instead, confidence and trust building measure should be put in place to win the hearts and minds of Baloch citizens. Use of force is not a solution in any conflict but dialogue and negotiations are the only way out.

    We also ask the Baloch militants to immediately declare a unilateral cease fire, end their war, lay down their arms and use only democratic and peaceful means of struggle to secure the Baloch genuine rights within the federation.

    ReplyDelete