Friday, June 26, 2015

خان میر سلیمان داؤد حکومتِ کے ایک وفد سے ملاقات پررضامند ہوگئے ہیں



کوئٹہ(سنگر نیوز)

خودساختہ طور پر جلاوطنی اختیار کرنے والے بلوچ رہنما خان آف قلّات میر سلیمان داؤد خان حکومتِ بلوچستان کے ایک وفد سے ملاقات پررضامند ہوگئے ہیں۔

انہوں نے یہ فیصلہ اس وفد کے اختیارات اور صوبے میں جاری صورتحال پر اپنے تحفظات کے باوجود کیا ہے۔تاہم اس وفد کے ساتھ ملاقات سے قبل وہ گرینڈ بلوچ جرگے کے اراکین کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ یہ جرگہ ان کے پاس قلّات کی ریاستی کی بحالی کے سلسلے میں ان کے پاس بھیجا گیا تھا۔لندن سے خان آف قلات مرحوم میر احمد یار خان کے بیٹے پرنس محی الدین بلوچ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ خان آف قلات نے اس مجوزہ وفد کے ساتھ ملاقات کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسی دوران قلاّت شہر سے خان آف قلّات کے محل سے تاریخی اشیاء کی لوٹ مار کی اطلاعات ملی ہیں۔رپورٹس کے مطابق مسلح افراد کا ایک گروپ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو مرکزی دروازہ توڑ کر اس محل میں داخل ہوا اور یہ لوگ خان آف قلّات مرحوم میر احمد یار خان احمد زئی کے زیراستعمال زرہ بکتر، تلواریں، ایک تخت، عظیم تاریخی اہمیت کے زرو جواہرات، دو قالین اور دیگر اشیاء اپنی گاڑیوں میں رکھ کر لے گئے۔سرکاری ذرائع نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی، البتہ مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ ایسا واقعہ رونما ہوا تھا۔

قلّات کے شاہی خاندان کے ایک سینئر رکن نے ڈان کو بتایا کہ ’’جی ہاں، مسلح افراد قلات کے محل سے تاریخی اور انتہائی قیمتی اشیاء لے گئے تھے۔‘‘صوبائی حکومت کے سینئر وزیر اور جھالاوان کے سربراہ نواب ثناء اللہ زہری نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی اور اس کو بلوچ روایات کی خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے لندن ٹیلی فون کرکے میر سلیمان داؤد کے ساتھ اس معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’میں نے خان آف قلات سے بات کی اور قلات محل سے ان تاریخی اور قیمتی اشیاء کی ڈکیتی پر افسوس کا اظہار کیا۔ خان آف قلات کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے جانشین ہیں۔‘‘دوسری جانب خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد نے اس معاملے پر اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ قلات کے محل سے تاریخی اشیاء ان کے والدین کی رضامندی کے ساتھ لے جائی گئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’قلات کے شاہی محل سے چوری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا، اور اس سلسلے میں پھیلی ہوئی افواہوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’اپنے والدین کی رضامندی کے ساتھ میں نے قلات محل کی کچھ قیمتی اشیاء محفوظ کرلی ہیں۔‘‘

http://dailysangar.com/خان-میر-سلیمان-داؤد-حکومتِ-کے-ایک-وفد-سے/

No comments:

Post a Comment