Friday, May 29, 2015

مذاکرات کا اختیار حاصل ہے مگر حالات زیادہ پیچیدہ ہیں نیشنل ایکشن پلان میں بلوچ مسلح گروپس شامل نہیں ہیں، ڈاکٹر مالک بلوچ



وقتِ اشاعت: مئی 30 – 2015
نیوز ایجنسی

کوئٹہ :  بلوچستان کے وسائل اور ساحل کو محفوظ بنانا بنیادی ذمہ داری ہے مذاکرات کا اختیار حاصل ہے، حالات بہت زیادہ پیچیدہ ہیں نیشنل ایکشن پلان میں بلوچ مسلح گروپس شامل نہیں ہیں سیندک پراجیکٹ کا معاہدہ سابقہ ادوار میں ہوا ہے صرف نعرہ بازی سے کچھ نہیں ہوگا حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی کونسل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کونسل سیشن کی تیاریوں میں کوئٹہ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت بہتر انداز میں کوئٹہ شہر میں جھنڈے ، بینر اور اسٹیکرز لگائے گئے ہیں یاد رہے کہ پہلی بار نیشنل پارٹی بلوچستان کا کونسل سیشن منعقد کیا جارہا ہے اجلاس کی صدارت مرکزی صدر میر حاصل خان بزنجو اور نائب صدر اقبال زہری نے کی جبکہ مرکزی نائب صدر طاہر بزنجو اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یاسین بلوچ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اقتدار کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی ، پالیسیوں اور فکر کو ہر وقت مقدم رکھا۔ بلوچستان کے حالات اس وقت بہت اچھے نہیں تھے جب نیشنل پارٹی نے اقتدار میں شراکت قبول کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے ہم کوئی انقلاب نہیں لائے ہیں ہماری جماعت نے گیارہ نشستیں حاصل کی ہیں بلوچستان کے جنگی حالات میں مذاکرات کی ذمہ داری دی گئی انہوں نے کہا کہ ایک بلوچ مسلح فرد کا بھی کیس نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں نہیں چل رہا اقتدار مشکل دور ہوتا ہے ایسی صورتحال میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کو تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں سپورٹ کرنا چاہئے۔ اپوزیشن میں سیاست کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ اقتدار میں اہداف کو حاصل کرنا مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ قتل ہوتے ہیں ان کا بے حد افسوس ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے بھی ایجنٹ نہیں ہیں صرف اپنے فکر و فلسفہ کے ایجنٹ ہیں۔ پارٹی کی پالیسیوں پر عملدرآمد کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں گوادر اور پسنی کی اراضیات کو 6 ہفتوں میں نیلام کردیاگیا ہم نے آکر پسنی کی پوری سیٹلمنٹ کینسل کردی اور اب جاکر گوادر میں چاتانی ہل اور زباد ؤن کی الاٹ منٹ کو بھی کینسل کردیاگیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ سیندک کی بات نہیں کرتا اسے ہمارے لوگوں نے خود دیا ہے اگر کسی میں ہمت ہے تو ریکوڈک پر ڈیل کرکے دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کو محفوظ بنادیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ ثمر مبارک مند پراجیکٹ کو بند کرنا مشکل کام تھا لیکن پالیسی تھی اس لئے کردیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے قیام کو اولیت دی ہے سبی میں یونیورسٹی اور نصیر آباد میں ایگریکلچر یونیورسٹی کا قیام بہت بڑی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کا کام این ایل سی کو دیاگیا ہے کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کم اور مسائل بہت زیادہ ہیں۔ بلوچ کے تشخص کو خطرات درپیش ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ تاریخ پر چھوڑہے ہیں کہ کون غدار اور کون وفادار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور بہت بڑا مسئلہ ہے اس پر قانون سازی کریں گے کہ گواد رمیں ہونے والے ترقیاتی عمل سے یہاں کے مقامی لوگوں کی شناخت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے ہونے والے ریونیو و کاروبار میں مقامی افراد کی حصہ داری اور دیگر امور پر قانون سازی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرتی ہیں اس وقت بلوچستان کو بہت سے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے جن میں پاک چین کوریڈور، انسرجنسی، ریکوڈک، مردم شماری رجعت پسندی، جہالت اور بیروزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے جو ذمہ داری دی ہے اسے بھرپور انداز سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔ اجلاس سے پارٹی کے وزراء سمیت دیگر ضلعی رہنماؤں نے خطاب کیا اور پارٹی سیکرٹریٹ رپورٹ پر بحث کی ۔ اجلاس آج بھی جاری رہے گا۔

http://dailyazadiquetta.com/2015/05/30/مذاکرات-کا-اختیار-حاصل-ہے-مگر-حالات-زیا/

No comments:

Post a Comment