Sunday, April 26, 2015

صوبے میں ملیریا سے بچاؤ کیلئے مہم دوبارہ چلائی جائیگی ، رحمت صالح بلوچ



وقتِ اشاعت: اپریل 26, 2015
نیوز ایجنسی

کوئٹہ: صوبائی وزیرصحت رحمت صالح بلوچ نے کہاہے کہ حکومت عوام کوطبی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے اسی لئے ملیریاسے بچاؤکیلئے بلوچستان کے 32اضلاع میں مہم دوبارہ چلائی جائیگی تاکہ لوگوں کواس مرض سے محفوظ رکھاجاسکے ان خیالات کااظہارانہوں نے محکمہ صحت کی جانب سے ملیریاکے عالمی دن کے موقع پرملیریافری بلوچستان کے نام سے کوئٹہ میں مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پراراکین صوبائی اسمبلی پرنس احمدبلوچ،راحیلہ درانی،ڈائریکٹرملیریاکنٹرول پاکستان ڈاکٹراسلم خان،ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ بلوچستان،ڈاکٹرفاروق اعظم جان،ڈاکٹرقطب خان کاکڑ،ڈاکٹرعبدالمجید،ملیریاکنٹرول پروگرام بلوچستان کے انچارج ڈاکٹرکمالان گچکی،ڈاکٹرآصف شاہوانی،صابرہ ایڈووکیٹ سمیت دیگرنے بھی خطاب کیاصوبائی وزیرصحت رحمت صالح بلوچ نے کہاکہ موجودہ حکومت نے برسراقتدارآنے کے بعدتہہ کیاتھاکہ وہ عوام کوتعلیم اورصحت کی بہترسہولیات فراہم کریگی اس لئے حکومت نے مختلف مہلک بیماریوں سے بچاؤاوران سے نجات کیلئے ٹیکہ جات اورویکسینیشن کی مہم کوچلانے کے بعدعوام میں شعوراجاگرکرنے کیلئے مختلف اقدامات کئے حکومت کی کوشش رہی ہے کہ اس سرزمین کے باسیوں کوان بیماریوں سے نجات دلانے کیلئے تمام دستیاب وسائل کوبروئے کارلایاجائے اورہم عوام کی سہولت کویقینی بناکراپناوعدہ پوراکررہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کوبنیادی سہولیات کی فراہمی کویقینی بنائے کیونکہ ہم نے اس بات کاتہہ کررکھاہے اسی لئے اس جذبے کیساتھ کام کررہے ہیں اوریہ تمام اقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس سے حکومت اپنی ذمہ داری سمجھ کرپوراکررہی ہے تعلیم اورصحت کے شعبے کوبہتربنانے کیلئے تمام وسائل فراہم کئے جارہے ہیں کیونکہ بلوچستان جوکہ پاکستان کے 46فیصدرقبے پرمحیط ہے اس میںآبادی دوردورتک پھیلی ہوئی ہے ہم نے تمام چیزوں کومنظم اندازمیں ان تک پہنچاناہے یہ ہماری ہمت کاامتحان ہے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کاتہہ کررکھاہے انہوں نے کہاکہ مہلک بیماریوں سے بچاؤکے حوالے سے جومیزل کے پروگرام ہے انہیں کامیاب بنانے کیلئے عوام میں شعوراجاگرکیاجائیگاملیریاکنٹرول پروگرام جوکہ صوبے کے 17اضلاع میں شروع تھااور31مارچ کوختم ہواہے اس کیلئے ہم نے مزیدفنڈزحاصل کئے ہیں اوراب اسے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کی اجازت سے دوبارہ صوبے کے 32اضلاع میں شروع کرینگے کیونکہ ہماری پہلی ترجیح انسانیت کوبچانے کی ہے اس کیلئے ہم کام کرینگے انہوں نے کہاکہ صوبے میں دیگرصحت کے شعبوں کے حوالے سے ہونے والے پروگرام یاچلنے والے منصوبوں کیلئے بہت کم وسائل فراہم کئے جارہے ہیں ہم نے وسائل کی کمی کے مسئلے کواسلام آبادمیں ہونے والی عالمی کانفرنس میں بھی اٹھایاہے کہ یہ تفریق ختم ہونی چاہئے اورعوام کی ضرورت کے مطابق فنڈزفراہم کئے جائیں بلوچستان کے طول وعرض میں بکھیری ہوئی آبادی میں سروسزمہیاکرنامشکل عمل ہے لیکن ہم نے گاؤں گاؤں اورگلی گلی جاکراپنی ذمہ داری نبھانی ہے اس کیلئے مزیدلوگوں کوبھرتی کرناہوگاتاکہ ان پروگرامز کواحسن طریقے سے کامیاب بنایاجاسکے انہوں نے بتایاکہ خسرے سے بچاؤکی اس مہم کے دوران میڈیانے بہت مثبت کرداراداکیاہے جس کے بدولت ہم اپنا35لاکھ بچوں کوویکسین لگانے کاٹارگٹ 100فیصدمکمل کرچکے ہیں جس پرمیں میڈیاکی اس کاوش کوسراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کرتاہوں کہ ان کی بدولت حکومت کامیاب ہوئی ہے ایک بارپھرمیڈیااورمعاشرے کے ہرفرد کوملیریاسے بچاؤکے حوالے سے اس پروگرام کوآگے تک لے جانے اورعوام میں شعورپیداکرنے کیلئے اپناکرداراداکرناہوگاانہوں نے کہاکہ جولوگ اسمبلی فلورپرمحکمہ صحت کے حوالے سے میرکردارکشی کررہے تھے وہ درست عمل نہیں اس موقع پردیگرمقررین نے بھی حکومت کی صحت اورتعلیم کے شعبوں میں کی جانیوالی کاوشوں اورعملی اقدامات کوسراہتے ہوئے کہاکہ حکومت اسی طرح اپنی ذمہ داری پوری کرتی رہے تاکہ لوگوں کومسائل سے نجات مل سکے مقررین نے کہاکہ ہرمکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوں کوان بیماریوں سے بچاؤکے حوالے سے محکمہ صحت کے ارباب اختیاراورحکومت ساتھ دیناچاہئے تقریب میں ملیریاکے حوالے سے خاکے اورٹیبلوپیش کئے گئے

http://dailyazadiquetta.com/2015/04/26/صوبے-میں-ملیریا-سے-بچاؤ-کیلئے-مہم-دوبار/

No comments:

Post a Comment