Saturday, April 11, 2015

سانحہ تربت جیسے بزدلانہ فعل کا نہ تو مذہب نہ بلوچی روایات اور نہ ہی ہماری قومی اقدار اجازت دیتی ہیں، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

SOURCE: Facebook

تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سانحہ تربت میں ملوث افراد بلوچستان اور مکران میں امن و امان تہہ و بالا کر کے عوام کو ترقی  خوشحالی سے دور رکھنا چاہتے ہیں، تعمیراتی کیمپ اور مزدوروں کی حفاظت پر مامور8لیویز اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، سانحہ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (JIT) بنا دی ہے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز تربت میں امن و امان کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، پرنسپل سیکریٹری محمد نسیم لہڑی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ، کمشنر مکران، ڈی آئی جی مکران رینج سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے، وزیر اعلیٰ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تربت کے مضافاتی علاقے گوگدان میں زیر تعمیر پل کے تعمیراتی کیمپ پر شرپسند افراد نے حملہ کر کے 20مزدوروں کو شہید اور 3کو زخمی کیا، انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال اسی مقام پر پل نہ ہونے کے باعث سیلابی ریلے میں 7افراد بہہ کر جاں بحق ہوئے تو حکومت نے مذکورہ مقام پر عوام کی سہولت اور حفاظت کے لیے پل تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا، جہاں پر تعمیر جاری تھی کہ انتہائی اندوناک اور دل خراش سانحہ رونما ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ مقام پر 8لیویز اہلکار تعمیراتی کمپنی کے کیمپ اور مزدوروں کی حفاظت پر تعینات تھے، لیکن اس کے باوجود المناک واقعہ رونما ہوا اور 20معصوم ، بیگناہ اور نہتے مزدور شہید اور 3زخمی ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کے بعد ڈیوٹی پر مامور8لیویز اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، سانحہ کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی مکران (RPO)کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے اور مذکورہ ٹیم ایک ہفتے کے اندر سانحہ کی تحقیقات کر کے حکومت کو رپورٹ پیش کریگی۔ انہوں نے کہا کہ معصوم اور بیگناہ لوگوں کو نہیں پتہ ہے کہ انہیں کس نے اور کیوں مارا، یہ نہتے اور غریب بیگناہ افراد تو تلاش رزق میں یہاں آئے تھے وہ نہ کسی کو جانتے تھے نہ کوئی انہیں جانتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں صوبائی حکومت اور نیشنل پارٹی کی جانب سے اس دلخراش واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ، اس بزدلانہ فعل کا نہ تو مذہب اور نہ ہی ہماری قومی اقدار اور روایات اجازت دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر دراصل بلوچستان اور مکران کی تعمیر و ترقی روکنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے تہہ کر رکھا ہے کہ ہم 21ویں صدی میں بلوچستان کو امن و خوشحالی دینگے، حکومت سڑکیں، پل، سکول اور ہسپتال تعمیر کرے گی اور عوام کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائینگی جن کی انہیں ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت میں ضروری ہے کہ اس نظام سے عوام مستفید ہوں ہم بلوچستان کے عوام کو ملک کے عوام کے ساتھ جوڑیں گے اورکئی دہائیوں کی محرومیوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر ختم کریں گے، وزیر اعلیٰ نے کہاکہ امن و امان سے متعلق اجلاس میں تربت سانحہ کا انتہائی گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیا گیا، جبکہ مکران میں امن و امان و ترقیاتی عمل کی کامیابی کے لیے حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور ایسی پائیدار حکمت عملی بنائی جائے گی جس سے پنجگور، تربت اور گوادر میں مکمل امن بحال ہو۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہید ہونے والے مزدوروں کے خاندانوں کو 10,10لاکھ جبکہ زخمی کو بھی مالی امداد دینے کا حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے، وزیر اعلیٰ نے بلوچستان اورمکران کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان ظالموں کے خلاف متحد ہو جائیں، جو بیگناہ مزدوروں کو قتل کرتے ہیں ، عوام اپنے علاقوں اور تعمیراتی منصوبوں کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور امن کی بحالی کے لیے فورسز سے تعاون کریں، صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارا خطہ تنازعات کی زد میں ہے اور یہاں بڑے بڑے ایکٹر سرگرم عمل ہیں، مستقبل میں تعمیراتی منصوبوں اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کیا جائیگا اور تمام ٹھیکیدار اس پر عمل کرنے کے پابند ہونگے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بنایا ہے وہ جب بھی چاہیں گے یہ منصب انہیں واپس کر دونگا، قبل ازیں تربت میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس زیر صدارت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ منعقد ہوا، جس میں سانحہ تربت، امن و امان کی صورتحال پر بعض اہم فیصلے کئے گئے، اجلاس میں چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، پرنسپل سیکریٹری محمد نسیم لہڑی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمر مسعود، کمشنر مکران، کمانڈنٹ مکران اسکاؤٹ، ڈی آئی جی مکران رینج معظم جاہ سمیت دیگر قونون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔


Source: Facebook

1 comment:

  1. Baloch Council of North America (BCNA) strongly condemn the killing of innocent workers in Turbat and ask the militants to end their path of violence and militancy and use only peaceful means of struggle to secure their rights. The killing of these innocent workers can not be justified in any way and must be condemned in the strongest terms possible.

    ReplyDelete