Monday, February 9, 2015

پاک چین اکنامک کاریڈور رُوٹ میں تبدیلی کا اندیشہ






 بھارت کو خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد پاکستان کی اس علاقے میں عمل داری مزید مضبوط ہوجائے گی۔ یہ شاہراہ چین کے شہر کاشغر کو پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے ملائے گی۔

ضیاء الحق سرحدی

گوادر پورٹ اور پاک چائنا اکنامک کاریڈور خطے کی خوشحالی کا اہم منصوبہ ہے۔ حالیہ دنوں میں اکنامک کاریڈور کے روٹ میں ردوبدل اور خیبر پختونخواہ کو اس سے نکالنے کے حوالے سے کچھ نہایت اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔

ملک کی تیسری بڑی اور اہم ترین بندرگاہ”گوادر پورٹ“ بلوچستان کے ساحل بحیرہ عرب پر کراچی سے تقریبا 533 کلومیٹر اور ایران کے بارڈر سے 120کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کا فاصلہ سلطنت آف عمان سے تقریبا 380کلومیٹر ہے، اس طرح جغرافیائی لحاظ سے یہ بندرگاہ اہم ترین مقام پر واقع ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہمیشہ ایسے فیصلے کئے گئے جس میں کسی خاص طبقے کو تو فائدہ ہوا لیکن ملک کے اکثر و بیشتر حصہ کو نقصان اٹھانا پڑا۔اگر اچھی منصوبہ سازوں کی موجودگی میں اچھی منصوبہ سازی کی جاتی تو خاص طبقے کے ساتھ ساتھ ملک کی زیادہ سے زیادہ حصے کو فائدہ پہنچتا۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں ساٹھ کلومیٹر طویل نئی شاہراہ ہزارہ موٹر وے کی تعمیر کاافتتاح کیا، اس کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کا پہلا حصہ قراردیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں گیم بدل دے گا۔ کاشغر گوادر پراجیکٹ سے دنیا کے تین ارب لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اس کاریڈور نے پاکستانی کشمیر سے بھی گزرنا ہے اس لئے بھارت نے اس منصوبے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر سے گزرے بغیر یہ شاہراہ چین اور پاکستان کا ملا نہیں سکتی۔ اس لئے بھارت کو خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد پاکستان کی اس علاقے میں عمل داری مزید مضبوط ہوجائے گی۔ یہ شاہراہ چین کے شہر کاشغر کو پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے ملائے گی۔ سڑک کے علاوہ اس کاریڈور میں ریلوے لائن، تیل اور گیس کی پائن لائنیں اور فائبر آپٹکس کیبلز بچھائے جانے کی تجویز بھی منظور کی جاچکی ہے۔ یہ شاہراہ چین کی ”گرینڈ ویسٹرین ڈیویلپمنٹ اسٹریٹجی“کے نام سے شروع کئے جانے والے ان منصوبوں میں سے ایک ہے جن کا آغاز 1978ء میں چینی رہنما ڈنگ ڑیاؤپنگ نے کیا تھا۔اس منصوبے کے تحت اوئغورسنکیانگ کے علاقوں کو مشرقی چین سے جوڑنے کیلئے ہزاروں کلومیٹر لمبے ہائی ویز تعمیر کئے گئے، ریلوے لائنیں بچھائی گئیں، ٹیکس میں غیر معمولی چھوٹ دی گئی اور اس کے علاوہ شنگھائی ، بیجنگ کے ساتھ مشرقی یا وسطی چین سے آنے والے صنعت کاروں کو صنعتیں لگانے میں ہر طرح کی مراعات دی گئیں۔ چینی حکومت نے ہر سال بجٹ میں اس علاقے کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈ فراہم کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چین کا یہ پس ماندہ علاقہ ترقی یافتہ مشرقی وسطیٰ چین کے برابر آگیا لیکن اس خطے کو مکمل فعال بنانے کیلئے ضروری تھا کہ اس علاقے میں تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈی تک کم سے کم فاصلے کے ساتھ رسائی فراہم کی جائے۔کاشغر سے شنگھائی تک کا فاصلہ پانچ ہزار کلو میٹر بنتا ہے اس لئے چینی قیادت نے بہت سوچ بچار کے بعد کاشغر کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر سے ملانے کیلئے اس تجارتی کاریڈور کی تعمیر کا منصوبہ بنایا، جس میں پاکستان نے بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس کاریڈور کو تعمیر کرنے سے متعلق بات چیت کا آغاز ہوا تھا اور اس شاہراہ کیلئے دو ہزار کلومیٹر روٹ فائنل کیا گیا۔ منصوبے کے مطابق اس روٹ نے ایبٹ آباد، حسن ابدال، میانوالی، ڈی آئی خان ، ڑوب اور کوئٹہ سے گزرتے ہوئے گوادر تک جانا ہے اور اس شاہراہ کو موٹر وے کی بجائے ٹریڈر کاریڈور کی طرز پر تعمیر کیا جانا ہے۔ جس پر مخصوص فاصلوں پر صنعتی زون قائم کئے جانے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ اسی طرح تیار ہوا جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے تو اس سے پورے پاکستان اور بالخصوص فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ، تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز نگاہ بن جائیں گے۔ اس سے ان علاقوں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ سے خلیج فارس محض 200میل دور ہے۔ جو دنیا کے سب سے بڑے آئل امپورٹر چین کے لئے خوش کن بات ہے کہ گوادر کا روٹ کھلنے سے اسے 12ہزار کلومیٹر طویل سمندری مسافت کے دوران امریکا کی ممکنہ بلیک میلنگ اور سمندری مسافت کے اخراجات سے چھٹکارہ ملنے کے علاوہ تیل کو آف لوڈ کرنے کے بعد پائپ لائنوں سے گزارنے کی مشقت سے ھی جان چھوٹ جائے گی۔

اس منصوبے کی معاشی اہمیت سے انکار نہیں۔ اول، یہ چین کی ترقی کیلئے خوش آئندہوگا اور علاقے سے سرگرم بنیاد پرستوں اور علیحدگی پسندوں کے پاؤں تلے سے زمین سرکائی جاسکے گی۔ دوئم چین کو خلیج فارس سے تیل لانے کا مختصر ترین زمینی راستہ مل جائے گا، اس سے چین کو آبنائے ملا کا سے نہیں گزرنا پڑے گا اور یوں یہ ضمانت بھی مل جائے گی کہ کوئی بھی غیر ملکی قوت خام مال کی آمد میں حارج نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کاریڈور بننے سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان پیدا ہوجائے گا اور زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ ساری ترقی پسماندہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوگی۔ جب کہ چین اور پاکستان بھی کہ چکے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل سے صرف ہمیں ہی نہیں، نزدیکی ہم سایہ ملکوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ لیکن اس کاریڈور کے روٹ میں جب سے تبدیلی کی باتیں سامنے آنے لگیں ہیں، اس وقت سے اس منصوبے کے متنازعہ بننے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنے حلاقہ انتخاب یعنی لاہور کو اس کاریڈور سے مستفید کرنے کیلئے اس سڑک کا رخ اصل روٹ سے ہٹا کر لاہور کی طرف موڑنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ جس پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سینیٹرز نے حکومت کو سکت احتجاج کی دھمکی دی تھی، تاحال یہ معاملہ راکھ میں دبا ہوا ہے لیکن یہ چنگاری کسی وقت بھی جنگل کی ا?گ بن سکتی ہے۔ روٹ بدلنے سے متعلق حکومت کی دلیل یہ ہے کہ وسائل کم ہونے کے باعث نئی سڑک تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے حسن ابدال سے گوادر تک نئی سڑک بنانے کی بجائے اس ٹریڈر کاریڈور کیلئے موجودہ موٹر وے(ایم ٹو) کو ہی استعمال کیا جائے ، بعد ازاں اس کو ملتان سے گوادر کے ساتھ ملادیا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ اس بہانے کی آڑ میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو اس نعمت سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے؟ جب کہ شہر شہر میٹرو منصوبوں کے اعلانات سے سوچنے والوں کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے حالانکہ کہ اس کاریڈور پر کئی صنعتی بستیاں تعمیر ہونے والی ہیں۔ دوسری جانب چین نے بھی اس منسوبے میں اس تبدیلی کو پسند نہیں کیا۔ وہ اب بھی برہان سے براستہ میانوالی اور ڈی آئی خان، ڑوب اور کوئٹہ سے ہوتے ہوئے گوادر تک رسائی چاہتا ہے۔ لاہور سے ملتان اور پھر کوئٹہ سے گوادر روٹ کے باعث چین کیلئے یہ فاصلہ کئی سو کلو میٹر بڑھ جائے گا۔ اس حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم نے روٹ میں تبدیلی کے ارادے کو ملتوی کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود خطرہ یہ بھی ہے کہ مستقبل میں اس منصوبے کو تبدیلی کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا کیونکہ میاں نواز شریف نے ایبٹ آباد حسن ابدال سیکشن کا افتتاح تو کردیا لیکن حسن ابدال تا گوادر تک شاہراہ کی تعمیر کیلئے کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔

اسلام آباد میں پاک چین اکنامک کاریڈور سیکرٹریٹ 27اگست 2013ء سے فعال ہوگیا تھا لیکن بعض حلقوں کے نزدیک یہ منصوابہ خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ اس منسوبے کا عرصہ تکمیل متعین نہیں۔ منصوبے کے اخراجات کا تخمینہ 35 بلین ڈالر بتایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی تخمینے سامنے آرہے ہیں۔ یہ بھی وضاحت نہیں کہ اس میں چین اور پاکستان کا حصہ کتنا ہوگا اور پاکستان کی ذمہ داری کیا ہوگی؟ قیاس یہ بھی ہے کہ انرجی، انفراسٹرکچر اور داخلی شاہراہوں پر اٹھنے والے اخراجات کا بڑا حصہ پاکستان کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ چین کی جانب سے تعاون آیا تو قرضے کی شکل میں ہوگا مگر یہ واضح ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات نہیں چلتے ہر کوئی اپنے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کے دوستوں کی ترجیحات کا بڑا واضح اظہار کیا تو ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اس فارن پالیسی میں اس تبدیلی کے فیصلے سے خطے میں حقیقی تبدیلی کا نقطہ آغاز طے ہوجائے گا؟ کیا اس مرتبہ معاملات واقعی مختلف ہوں گے؟

مواصلات سے متعلق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی نے پاک چائنہ کاریڈور کا روٹ تبدیل کئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ارکان میں اتفاق پایا گیا۔ فیزیبلٹی کے مابق اس منصوبے کا روٹ چین کے علاقے کاشغر سے ایبٹ آباد حسن ابدال، میانوالی، بنوں ، ڈیرہ اور ڑوب کے راستے گوادر تک کا تھا۔ ہمارے منصوبہ سازوں نے وسائل کی کمی کو جواز بنا کر سڑک کو برہان سے اسلام آباد لاہور موٹروے کے راستے کراچی سے گوادر لے جانے کی منظور دی ہے۔ منصوبے کے پرانے نقشے میں خیبر پختونخوا کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں صنعتی و تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کے مواقع موجود تھے۔ گوادر کو 60 کی دھائی سے فلائلوں میں ان کی بندرگاہ کے منصوبے کا مقصد ہی خیبرپختونخوا کے راستے افغانستان اور اس سے آگے وسطی ایشیاء تک رسائی ممکن بنانا تھا یہ وہی رسائی ہے جس کا وعدہ 1979ء میں افغانستان پر روسی یلغار کے بعد فرنٹ لائن صوبے خیبر پختونخوا کے ساتھ حالات میں بہتری کی شرط پر تجارتی گیٹ وے کی حیثیت کے حوالے سے کیا جاتا رہا ہے اس برسر زمین حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے اپنے مخصوص جغرافیے کے باعث تعمیر و ترقی کی دوڑ میں پہلے ہی نسبتاََ پیچھے رہ چکے ہیں۔ یہاں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا مستقبل افغانستان اور وسطی ایشیاء کیساتھ ٹریڈ کی صورت روشن ہوسکتا ہے ، امن و امان کی صورتحال نے یہاں تجارت سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انڈسٹریل سٹیٹس کو تالے لگنا اور ہزاروں مزدورں کی بے روزگاری المیے سے کم نہیں ایسے میں یہ صوبہ اس بات کا مستحق ہے کہ یہاں کی صنعتوں کو بحال کر کے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ وفاقی حکومت اور خصوصا وزیراعظم خود ایڈ کی بجائے ٹریڈ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں معیشت کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دے کر اس مقصد کیلئے اقدامات بھی اٹھارہے ہیں کیا ہی بہتر ہوگا کہ خود وزیراعظم کاشغر گوادر منصوبے کو خیبر پختونخوا اور فاٹا کیساتھ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کیلئے بھی ثمر آور بنانے کا حکم دیں۔ حالانکہ تین سیاسی رہنماؤں (مولانا فضل الرحمن، آفتاب شیرپاؤ اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک) نے اس منصوبے کو سنجیدگی سے لیا۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں کہ اصل روٹ کی تعمیر ہونے سے عمران خان کے میانوالی کی طرح ان کے ڈی آئی خان کی تقدیر بھی بدل جائے گی۔ جبکہ مولانا کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں چینیوں سے بھی ملے تھے اور ان کے بقول اب میاں نواز شریف بھی اس منصوبے کے اصل اور سابقہ روٹ سے گزارنے پر آمادہ ہوگئے ہیں لیکن اب بھی حکومت یکسو نظر نہیں آتی۔

http://daily.urdupoint.com/article/special-articles/pak-china-economic-corridor-rout-main-tabdeeli-ka-andesha-6135.html

No comments:

Post a Comment