Saturday, June 7, 2014

بلوچ طالبعلم کی 46 روزہ بھوک ہڑتال ختم - Baloch student Latif Joher ends his hunger strike





تاریخ اشاعت 07 جون, 2014


کراچی: چھیالیس روز سے جاری بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رکن لطیف جوہر نے ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی یقین دہانی کروانے کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لطیف جوہر 18 مارچ کو بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ کی گمشدگی کے خلاف 22 اپریل سے بھوک ہڑتال پر تھے۔

لطیف الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کی تنظیم کے سربراہ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغوا کر رکھا ہے۔

ایک اعلامیے کے مطابق ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ معاملے کو اقوام متحدہ کے مسنگ پرسنز سے متعلق ادارے میں اٹھایا جائے گا جبکہ زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا: 'بی ایس او آزاد نے تمام قابل احترام تنظیم، شخصیات اور عوام کی اپیل اور ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی یقین دہانی کے بعد مرکزی کمیٹی نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے تادم بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

اس موقع پر ایوب قریشی، ماما قدیر، اقبال بٹ، ذوالفقار شاہ اور بشریٰ خالق سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بی ایس او پریس کانفرنس میں جلد آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

No comments:

Post a Comment