Sunday, June 9, 2013

وزیراعلیٰ بلوچستان کی مسلح تنظیموں کو مذاکرات کی دعوت (سیکرٹ فنڈ ختم کرنے کا اعلان )


ڈاکٹر عبالمالک بلوچ کا بلا مقابلہ انتخاب ایوان میں موجود 55 ارکان نے حمایت کردی ,نو منتخب وزیر اعلیٰ سے گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے حلف لے لیا
لاپتہ افراد کا معاملہ نظر انداز نہیں کرینگے ،ایک دن رہوں یا پانچ سال ،عزت کیساتھ رہونگا،نوازشریف اور عسکری قیادت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں پولیس اور لیویز کو منظم کیا جائیگا،ملازمتوں میں اپنے حصے کا کوٹہ لیں گے ،گوادرمیں زمینوں کی بندر بانٹ کے حقائق سامنے لائے جائینگے ،عبدالمالک کا ایوان میں خطاب نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بلامقابلہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے انہوں نے صوبے کے 20ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے ان سے حلف لیا ۔قبل ازیں بلوچستان اسمبلی کااجلاس گزشتہ روز ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی کی صدارت میں شروع ہوا۔ سپیکر نے نیشنل پارٹی ،مسلم لیگ(ن) اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مشترکہ امیدوار ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حق میں بحیثیت قائد ایوان اسمبلی میں رائے شماری کرائی جس میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو55ارکان اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ دیاجس کے بعد سپیکر نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بلامقابلہ قائدایوان منتخب ہونے کا اعلان کیا ۔اس موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کی مسلح تنظیموں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے سیکرٹ فنڈ ختم اور اپنا صوابدیدی فنڈ بندکرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر سٹیک ہولڈرز مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کریں جب سیاسی اور عسکری قیادت بیٹھ کر بات کرے گی تو کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا ۔ جب تک 65ارکان بلو چستان اسمبلی اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے تب تک بلوچستان تبدیل نہیں ہوگا۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کی بازیابی، مسخ شدہ لاشوں کاسلسلہ بند اور امن وامان کے قیام کو یقینی بنانا ہے جب تک ہم امن قائم نہیں کریں گے تب تک ترقی ممکن نہیںصوبے میں آگ لگی ہوئی ہے ،لاپتہ افراد کے معاملے کو نظر انداز نہیں کریں گے ۔ تمام اداروں سے سیاسی اثرورسوخ اور کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ کرنے پر گھر جانے کو ترجیح دوں گا، ایک دن رہوں یا 5 سال عزت کے ساتھ رہوں گا۔نوازشریف اور عسکری قیادت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں، ڈیفنس، مواصلات، کرنسی سمیت پانچ محکمے وفاق کے پاس ہیں، بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سب کی رہنمائی لے کرتبدیلی لائیں گے ۔اپنے وسائل اورحق کیلئے لڑیں گے اب بلوچستان کے وسائل پرسمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ملازمتوں کے معاملے میں بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے ،ملازمتوں میں اپنے حصے کا کوٹہ لیں گے ، ہم کسی دوسری فورس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی پولیس اور لیویز کو منظم کریں گے ۔بلوچستان کا سیکریٹ فنڈ آج سے ختم ،نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ترقی کے لئے امن کی ضرورت ہے ، اس حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم اقلیتوں کو تحفظ دیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے ۔ دنیا کی کوئی طاقت مادری زبان کو پڑھنے سے نہیں روک سکتی،ہمیں تمام زبانوں سے پیار ہے ، ہم عنقریب مادری زبانوں میں سکولوں و کالجوں میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کریں گے ،انہوں نے کہاکہ گوادر میں زمینوں کی بندربانٹ ہوئی،جس نے بھی گوادرکی زمین حاصل کی ہے ، اس کا نام ظاہرکیا جائے گا،حقائق سامنے لانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے ، چاہے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ہم کسی ایسے ڈاکٹر یا ٹیچر کی سفارش نہیں کریں گے جو اپنے فرائض سرانجام نہیں دیتا’ پھر میری ذمہ داری ہوگی کہ میں استاد کو سکول اور ڈاکٹر کو ہسپتال لے کرآئوں گا ’سرکاری افسران یہ عہد کریں کہ وہ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر سول سیکرٹریٹ کے چکر نہیں لگائیں گے ’ کوئی کمشنرڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او پوسٹنگ کیلئے سیاسی دبائو استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کلچر کو بدلنا ہے ’اگر ڈاکٹر مالک خود 8بجے کے بجائے 2بجے نیند سے اٹھ کر دفتر آئے گا تو پھر کچھ نہیں چلے گا’ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم وقت کی پابندی کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کا پارلیمنٹرینز پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مجھ جیسے سیاسی کارکن کیلئے مشکل ہوجائے گی ہمیں عوام کے دل جیتنے ہیں ۔میں تمام دوستوں کویقین دلاتا ہوں کہ سب کو ساتھ لے کر چلوں گا ۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ہم پچاس ہزار میگاواٹ بجلی بناسکتے ہیں تو پھر ہم خود کیوں نہ لورالائی، خضدار یاکہیں اور بجلی گھر بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے وی آئی پی کلچر کو چھوڑنا ہوگا عوامی نمائندے نہیں اب ہمارے عوام وی آئی پی ہوں گے ۔جب میں دیکھتا ہوں کہ میری وجہ سے کوئی سڑک بند ہے تو مجھے ندامت ہوتی ہے کہ میری وجہ سے عوام کو تکلیف ہورہی ہے اب ہمیں چیزوں کو میرٹ پر دیکھنا ہوگا’احتساب کا شفاف نظام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاترہوکر اپنائیں گے ’ ہم کب تک خوبصورت باتیں کرتے اور عوام کو بہلاتے رہیں گے ’اب حقیقی معنوں میں کام کرنا ہوگا قبائلی تنازعات کوختم کرنے کی کوشش کریں گے اِس موقع پر انہوں نے اعتماد کرنے پرپورے ایوان کاشکریہ ادا کیا۔دریں اثنا گورنر بلوچستان نے گزشتہ روز نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کے بعد بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا ہے

No comments:

Post a Comment