Sunday, June 9, 2013

بلوچستان کے ساحل ووسائل کا تحفظ کریں گے اور مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنائیں گے،مالک بلوچ

k14aکوئٹہ(قدرت نیوز)نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ہم نے کلچر کو تبدیل کرنا ہے اپنے عوام کو ایک نیا وژن دیں گے ایک دن رہوں یا پانچ سال ،عزت سے آیا ہوں عزت سے جاؤں گا جب تک 65ارکان بلوچستان اسمبلی اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے تب تک بلوچستان تبدیل نہیں ہوگا بلوچستان کے ساحل ووسائل کا تحفظ کریں گے اور مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنائیں گے ان خیالات کااظہارانہوں نے اتوار کو وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کی بازیابی، مسخ شدہ لاشوں کاسلسلہ بند اور امن وامان کے قیام کو یقینی بنانا ہے جب تک ہم امن قائم نہیں کریں گے تب تک ترقی ممکن نہیں ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے امن کے قیام کویقینی بنانا ہوگا میں میاں محمدنواز شریف ،نواب ثناء اللہ زہری، محمودخان اچکزئی، مولاناعبدالواسع، جعفرخان مندوخیل اور زمرک خان اچکزئی سمیت تمام ارکان اسمبلی کا شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے مجھ پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے مجھے وزیراعلیٰ منتخب کیا میں بلوچستان کے عوام کا بھی شکرگزارہوں کہ جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے کر ہمیں ووٹ دیئے میں اس موقع پر اپنے سیاسی اکابرین عظیم قائد میر یوسف عزیز مگسی ،خان عبدالصمدخان اچکزئی، میر عبدالعزیز کرد اور میرغوث بخش بزنجو اور باچا خان کو ضرور یادکرناچاہوں گا جنہوں نے انگریزوں کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی انہوں نے اس دور میں جدوجہد کی جب سیاسی جدوجہد کامقصد اپنی موت کو دعوت دینا تھا آج ہم اس اسمبلی کاحصہ اور اس فلور پر جہاں بات کررہے ہیں اپنے انہی اکابرین کی جدوجہد کی بدولت یہاں تک پہنچے ہیں میں عظیم سیاسی رہنماء مولابخش دشتی،نسیم دشتی، عبدالخالق لانگو اور ایوب بلیدی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے نیشنل پارٹی کوحقیقی عوامی جماعت بنایا اور اس پارٹی نے ہمیں عزت دی ہے عام انتخابات میرے لئے آزمائش تھے وزیراعلیٰ بننا بھی میرے لئے ایک آزمائش تھی اور سب سے بڑی آزمائش میرے لئے یہ ہے کہ آج میں قائد ایوان کی نشست پر کھڑا ہوں ہمارا سب سے بڑامسئلہ لاپتہ افراد کی بازیابی ،مسخ شدہ لاشوں کاسلسلہ بند ،ٹارگٹ کلنگ بند ،مذہبی تعصبات کاخاتمہ، اغواء برائے تاوان اور اقلیتوں کی نقل مکانی کو روکنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف اور ملک کی سیاسی وعسکری قیادت نے ان مسائل کو ایڈریس کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم مسائل کے حل میں کامیاب ہوجائیں اس ایوان میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اراکین موجود ہیں ہم میڑھ اور معرکہ کریں گے اور اپنے بھائیوں کے پاس جاکر کہیں گے کہ بلوچستان جل رہا ہے بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے تعلیمی ادارے تباہ زراعت کا شعبہ برباد ہوچکا ہے 30میں سے29اضلاع کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ترقی کیلئے امن وامان کاقیام ضروری ہے ہم لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں گے اور لوگوں کوجوڑیں گے کوئٹہ اوربلوچستان میں وہ امن لائیں گے جو کبھی یہاں کاحصہ تھا میں مسلح تنظیموں کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کریں جب سیاسی اور عسکری قیادت بیٹھ کر بات کرے گی تو کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا اپنی ترجیحات کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک یہاں موجود ہم 65ارکان خود کو نہ بدلیں گے تب تک بلوچستان میں کچھ نہیں بدلے گا آیئے ہم حمایت کرتے ہیں کہ ہم کسی ایسے ڈاکٹر یا ٹیچر کی سفارش نہیں کریں گے جو اپنے فرائض سرانجام نہیں دیتا پھر میری ذمہ داری ہوگی کہ میں استاد کو سکول اور ڈاکٹر کو ہسپتال لے کرآؤں گا سرکاری افسران یہ عہد کریں کہ وہ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر سول سیکرٹریٹ کے چکر نہیں لگائیں گے کوئی کمشنرڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او پوسٹنگ کیلئے سیاسی دباؤ استعمال نہیں کرے گا ہم نے کلچر کو بدلنا ہے اگر ڈاکٹر مالک خود 8بجے کی بجائے2بجے نیند سے اٹھ کر دفتر آئے گا تو پھر کچھ نہیں چلے گا ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم وقت کی پابندی کریں گے میں ڈاکٹر اساتذہ سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقت کی پابندی کرین اگر ہم خود کو تبدیل کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ تبدیلی آئے گی اگر مجھے سمجھوتے کرنے پڑے تو اس سے بہتر ہوگا کہ میں اپنے گھر چلاجاؤں عوام کا پارلیمنٹرینز پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مجھ جیسے سیاسی کارکن کیلئے مشکل ہوجائے گا ہمیں عوام کے دل جیتنے ہیں میں تمام دوستوں کویقین دلاتا ہوں کہ میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گاایک دن رہوں یا پانچ سال عزت کے ساتھ رہوں گا ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جس سے اسلام آباد سمیت کہیں بھی بلوچستان کے پارلیمنٹرینز کی بے عزتی ہو میں فٹ پاتھ سے آیاہوں فٹ پاتھ پر واپس چلاجاؤں گا مگر کوئی سمجھوتے نہیں کروں گا ہمیں سنجیدہ ہونا ہوگا اور سنجیدگی کامظاہرہ کرنا ہوگا پارلیمنٹ کوسنجیدہ نہ لینے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں اٹھارویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات پر ہمیں عمل کرنا ہوگا اٹھارویں ترمیم کے بعد اب وفاق کے پاس صرف پانچ محکمے باقی رہ گئے ہیں باقی صوبوں کے پاس ہیں ہمارے پاس بجلی نہیں ہماری زراعت تباہ ہوچکی ہے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ہم پچاس ہزار میگاواٹ بجلی بناسکتے ہیں تو پھر ہم خود کیوں نہ لورالائی، خضدار یاکہیں اور بجلی گھر بنائیں ہم نے عوام کو وژن دینا ہے اور ہم اپنے دستار کا بھی خیال رکھیں گے جو ہوا سو ہوا جتنی کرپشن ہونی تھی ہوگئی آج کے بعد بلوچستان میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی اس موقع پر انہوں نے اپنے صوابدیدی فنڈز بند اور سیکرٹ فنڈ ختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری، ہم نے کوشش کرنی ہے کہ پہلے خود کو سنبھالیں اس کیلئے سب سے پہلے وی آئی پی کلچر کو چھوڑنا ہوگا عوامی نمائندے نہیں اب ہمارے عوام وی آئی پی ہوں گے کیونکہ ان غریبوں نے تو آج تک زندگی بھی نہیں دیکھی انہیں تعلیم صحت کوئی سہولت میسرنہیں ہم نے اپنے عوام کو وی آئی پی بنانا ہے سیکورٹی مسئلے کوچھوڑ کر کہیں ہم وی آئی پی کلچر نہیں اپنائیں گے جب میں دیکھتا ہوں کہ میری وجہ سے کوئی سڑک بند ہے تو مجھے ندامت ہوتی ہے کہ میری وجہ سے میرے عوام کو تکلیف ہورہی ہے اب ہم نے چیزوں کو میرٹ پر دیکھنا ہوگا احتساب کا شفاف نظام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاترہوکر اپنائیں گے ہم کب تک خوبصورت باتیں کرتے اور عوام کو بہلاتے رہیں گے اب ہم نے حقیقی معنوں میں کام کرنا ہوگا قبائلی تنازعات کوختم کرنے کی کوشش کریں گے قبائلی تنازعات ختم کرنے کیلئے جو ہوسکا کریں گے بلوچستان کی کبھی یہ روایت نہیں رہی تھی مگر اب اقلیتوں کو اتنا مجبور کردیا گیا کہ وہ نقل مکانی کررہی ہیں ہم نے ہندوؤں کا سکون برباد کردیا وہ سب کچھ چھوڑ کر جارہے ہیں ان کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے اگر میں ایسا نہ کرسکا تو یہ میرے لئے سب سے بڑی ندامت ہوگی ہم نے بہت سی چیزوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا جب تک ہم سب کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے ترقی نہیں کریں گے خواتین اس ملک کا اہم حصہ ہیں ان کے بغیر ترقی ممکن نہیں خواتین ارکان اسمبلی مجھے تجاویز دیں کہ ہم خواتین کی بہتری کیلئے کیا کچھ کرسکتے ہیں میں خوابوں کی دنیامیں نہیں رہناچاہتا اکیسویں صدی ظالم صدی ہے ہم فٹ نہ ہوئے تو ڈائنوسارز کی طرح مٹ جائیں گے اور اگر فٹ رہے تو مکھی کی طرح زندہ رہ جائیں گے میں واضح کرناچاہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ہماری مادری زبانوں میں بات کرنے سے نہیں روک سکتا جلد سکول اور کالج کی طرح پر مادری زبانوں میں تعلیم رائج کریں گے یہ ہمارا خواب تھا اس کیلئے ہم نے جدوجہد کی ہم کوئی زبان کسی پر نہیں ٹھونسیں گے ہم جتنا اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں اتنا ہی دوسروں کی زبان سے ہمیں پیار ہے انہوں نے کہاکہ وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر ماضی میں کوئی عملدرآمد نہیں ہوا نواز شریف سے مل کر کہوں گا کہ وفاقی محکموں سمیت تمام اداروں میں بلوچستان کے کوٹے پر عملدرآمد کیا جائے مصنوعی نہیں بلکہ بلوچستان کے حقیقی لوگوں کو اس نمائندگی کے تحت ملازمتیں دی جائیں کوئٹہ ہم سب کا شہر ہے اس کو سنبھالنا اور خوبصورت بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے کوشش کریں گے کہ کوئٹہ کے عوام کوتمام بنیادی سہولتیں دے سکیں اگر ہم 65لوگ عہد کرلیں تو ہم کوئٹہ کو تجاوزات سے نجات اور تمام سہولیات فراہم کرسکتے ہیں میں بلوچستان کے عوام کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم میں اتنی ہمت اور جرأت ہے کہ ہم اپنے ساحل ووسائل کاتحفظ کرسکیں ہم نے اپنے ساحل ووسائل پر نہ کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کبھی کریں گے ہمارے عوام عذاب سے گزر رہے ہیں ہم نے لیویز ،پولیس ،بلوچستان کانسٹیبلری اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھٹہ بٹھا دیا ہماری لیویز فورس انتہائی منظم فورس تھی ہمیں اسے اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منظم کرنا ہوگا ہم کب تک معمولی معمولی معاملات کیلئے ایف سی کو بلاتے رہیں گے اللہ نے ہمیں خوبصورت ساحل دی ہے ملک کا 70فیصد ساحل سمندر ہمارے پاس ہے اس کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے مگر ماضی میں وہاں پر بعض لوگوں نے رشوت لے کر ٹرالروں کو ماہی گیری کی اجازت دی میں نام نہیں لیناچاہتا ہمارے وزراء بھی اس میں شامل رہے ٹرالروں نے ہماری زراعت کو تباہ کردیا گوادر میں زمینوں کو بٹوارہ کیاگیا ہم ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے اور بٹوارہ کرنے والوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے جس جس نے وہاں پر زمین لی ان کو عوام کاسامناکرناپڑے گا گوادر میں تین لاکھ روپے کا پلاٹ تین تین ہزار روپے میں بیچا گیا باہر سے آنے والوں نے پسنی میں زمین خریدی ان کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہاں آکر انہوں نے زمین خریدی ہم کسی کو بندربانٹ کی اجازت نہیں دیں گے ہم بلوچستان میں آباد تمام اقوام کو ایسا ماحول دیں گے کہ جس میں ہم سب ساتھ رہیں گے ہمارے اکابرین میر غوث بخش بزنجو اور خان شہید عبدالصمد خان ایک ساتھ رہتے تھے وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا کریں ہمیں سازشوں کوناکام بنانا ہوگا گزشتہ پانچ سال کے دوران ہمارے مائننگ کے سیکٹر کو تباہ کیا گیا بے انتہاء الاٹمنٹ کی گئی ہم اپنے وسائل کا دفاع کریں گے اور ساحل ووسائل کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے

http://www.dailyqudrat.com/2013/06/09/بلوچستان-کے-ساحل-ووسائل-کا-تحفظ-کریں-گے/

No comments:

Post a Comment