Sunday, June 9, 2013

ڈاکٹر مالک بلوچ کا مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی دعوت


کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)ڈاکٹر مالک بلوچ بلوچستان کے متفقہ طور پروزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ، نومنتخب وزیراعلیٰ نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا۔حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ڈاکٹر مالک بلوچ سے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں اسپیکر جان محمد جمالی، ڈپٹی اسپیکر، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے رہنماء ، قبائلی عمائدین اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی میں ڈاکٹر مالک بلوچ کو متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب کیا گیا۔ ایوان میں موجود تمام 55ارکان نے کھڑے ہوکر ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ تاہم سات ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے ۔ تین جماعتی اتحاد نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ کے علاوہ جے یو آئی، مسلم لیگ ق، اے این پی ، مجلس وحدت المسلمین سمیت تمام جماعتوں کے ارکان نے ان کی حمایت کی ۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے ڈاکٹر مالک بلوچ کے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔نو منتخب وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اقتدار سنبھالتے ہی خفیہ فنڈز ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن بہت ہوگئی ، اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی، صوبے کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم گھر چلے جائیں ، وی آئی پی کلچرکو ختم کرنا ہوگا، بلوچستان اسمبلی کے ارکان خود کو تبدیل کرینگے تو صوبے میں تبدیلی آئے گی، وفاق اور عسکری قیادت ساتھ دیں تو مزاحمت کاروں کے پاس میڑھ لیکر جائیں گے ، سرکاری ڈیوٹیاں انجام نہ دینے والے اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے تقرر و تبادلے کرانے والے سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی ، گوادر میں زمینوں کی بندر بانٹ کی تحقیقات کی جائے گی ، سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں مادری زبانوں کو بطور مضمون پڑھایا جائے گا۔یہ باتیں انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد ایوا ن سے خطاب کے دوران پالیسی بیان دیتے ہوئے کہیں۔ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں موجود تمام پچپن ارکان نے کھڑے ہوکر ڈاکٹر مالک بلوچ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ارکان نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو مبارکباد دیتے ہوئے صوبے کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ بلا مقابلہ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں ڈاکٹر مالک بلوچ نے اعتماد کرنے پرپورے ایوان اور خاص طور سے ن لیگ سمیت حمایت کرنے والی دیگرجماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر مالک نے قرار دیا کہ کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد ، مسخ شدہ لاشیں اور بدامنی ہے۔ وفاق اور عسکری قیادت نے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تو قبائلی عمائدین اور سیاسی معتبرین نے ناراض بلوچوں کے پاس جائیں گے۔انہوں نے مسلح تنظیموں کو دعوت دی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آکر بات کرے ۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے، بھائی بھائی کو قتل کررہاہے، 29 اضلاع میں لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔ بلوچستان کو بدلنے کے لئے پہلے ایوان کے پیسنٹھ ارکان کو خود کو بدلنا ہوگا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ صوبے میں کرپشن بہت ہوگئی، اب کرپشن نہیں چلے گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کا سیکریٹ فنڈ ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ سیکریٹ فنڈز کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس لئے آج سے یہ فنڈ بند کردیا ہے۔ڈاکٹر مالک نے واضح کیا کہ ایک سال رہا یا پورے 5سال رہا، عزت کے ساتھ رہوں گا اور کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے صوبے کی بدنامی ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی امن وامان کی بحالی سے آئے گی۔ صوبے کے مسائل اور عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے گھروں میں جائیں۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے سکول اور کالج کے نصاب میں علاقائی زبانوں کے مضامین شامل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر ختم کرکے عوام کو اہمیت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل شروع کریں گے، سرکاری ڈیوٹیاں انجام نہ دینے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی۔ گوادر میں زمینوں کی بندر بانٹ کی تحقیقات کی جائے گی۔ انہوں نے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے وفاق سے سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہم فٹ پاتھ سے آئے ہیں اور فٹ پاتھ پر واپس چلے جائیں گے ، سیکرٹ فنڈ کرپشن کا ذریعہ ہے میں آج سے سیکرٹ فنڈ کو مکمل طور پر بند کررہا ہوں ، سیاسی جماعتیں ، مسلح تنظیمیں آکر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے اگر وفاقی حکومت اور عسکری تنظیموں نے مدد کی تو بلوچستان کا مسئلہ کوئی وجہ نہیں کے حل نہ ہوسکے ، صوبے کے 30 اضلاع میں سے 29 کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،ان کو صحت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی اور امن فراہم کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہیں ، کوئٹہ کو خوبصورت شہر بنائیں گے ، اگر اسمبلی کے 65 ارکان یہ عہد کرے کہ ہم کسی غیر حاضر ٹیچر ، ڈاکٹر کی سفارش نہیں کریں گے تو میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ سکول اور ہسپتال میں ضرور حاضر ہوگا ، گوادر اور پسنی میں جس انداز میں زمینوں کی بندربانٹ ہوئی ہے اس کی ایک ایک انچ زمین کا حساب عوام کے سامنے لایا جائے گا ۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اسمبلی فلور پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں محمد نواز شریف ، محمود خان اچکزئی ، سردار ثناء اللہ زہری ، مولانا عبدالواسع ، جعفر خان مندوخیل اور زمرک اچکزئی سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھ پر جس اعتماد کااظہار کیا ہے کوشش کروں گا کہ اپنے صلاحیتوں کو بروئے کا رلا کر ان کے اعتماد پر پورا اتر سکوں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان او رباالخصوص بلوچستان کی عوام نے جن حالات میں الیکشن کئے اور ہمیں ووٹ دے کر اسمبلیوں تک پہنچایا ہم اپنے عوام کے بھی مشکور ہے میں اس سیاسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس کے تانے بانے عظیم بلوچ قائد میر عزیز یوسف مگسی ، خان عبدالصمد خان اچکزئی ، عبدالعزیز کرد اور نواب غوث بخش بزنجو سے ملتے ہیں جنہوں نے انگریز کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی ۔ انگریز کے خلاف جدوجہد اپنے آپ کو موت کی دعوت دینے کے مترادف تھا ہمارے قائدین عظیم انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ میں عظیم قائد مولا بخش دشتی ، نسیم جنگیان ، عبدالخالق لانگو اور ایوب بلیدی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے نیشنل پارٹی کو عوامی پارٹی بنا کر ہمیں یہ عزت دی ۔ الیکشن آزمائش تھا اور وزیراعلیٰ کا منصب اس سے بھی بڑی آزمائش ہے میں اس وقت بڑی آزمائش سے گزررہا ہوں صوبے میں لاپتہ افراد ، مسخ شدہ لاشیں ، ٹارگٹ کلنگ ، مذہبی تعصبات ، اغواء برائے تاوان ، نقل مکانی وہ مسائل ہیں جو میرے نزدیک کوہ مالیہ سے بھی زیادہ وزنی اور اونچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میاں محمد نواز شریف اور پاکستان کے عسکری قیادت نے مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میں قبائلی معتبرین اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے بھائیوں کے پاس میڑھ معرکہ لے کر جاؤں گا اور انہیں کہوں گا کہ اس وقت بلوچستان جل رہا ہے آپ کو جو بھی اطلاعات دے رہے ہیں وہ غلط ہیں اس وقت صوبے میں آگ لگی ہوئی ہیں بھائی بھائی کو مار رہا ہے تعلیمی ادارے برباد ہے 30 اضلاع میں 29 کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں بلوچستان کی ترقی کے لئے امن کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ان علمائے کرام کے پاس بھی جانے کے لئے تیار ہوں جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے حوالے سے تبلیغات سکھائے اگر ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے تو ہم وہ بلوچستان اور کوئٹہ اپنی اس شکل میں واپس لانے میں کامیاب ہوں گے جو 1977 ء کے عشرے میں ہوا کرتا تھا جہاں ہم فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرتے تھے ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں ، عوام اور مسلح تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ امن کی خاطر ٹیبل پر بیٹھ کر بات چیت کرے ۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ باتیں تو ہم سب اچھی کرتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر اس ایوان میں موجود 65 ارکان اپنے آپ کو بدلیں گے تو صوبے میں تبدیلی ناگزیر ہیں اور ہمیں آج عہد کرنا چاہیے کہ ہم کسی ڈاکٹر یا ٹیچر کی سفارش نہیں کریں گے جو ڈیوٹی نہ دیتا ہوں اور اگر ہم اس عہد میں کامیاب ہوگئے اور اگر ہم اس ٹیچر اور ڈاکٹر کو حاضر ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے جو چور کی سزا وہ ہمیں دیا جائے ۔ ہمیں یہ بھی عہد کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سرکاری آفیسر بغیر اجازت کے تحت سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ میں داخل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی اور ڈی پی او کو سیاسی اثرورسوخ کے زیر استعمال نہیں لایا جانا چاہیے اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر کسی کی تعیناتی ہوگی ہمیں کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم سب کو وقت کی پابندی کرنا ہوگی ۔ انہوں نے سرکاری آفیسروں ، ڈاکٹروں اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی کو سمجھے کیونکہ وقت تبدیل ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد کم ہورہا ہے ہم نے اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہے اور اگر ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو پھر عوام کا دل جیتنا ہمارے لئے مشکل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلوں گا لیکن ان سے بھی تعاون کی درخواست کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے واضح کیا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں ایک دن یا 5 سال وزیراعلیٰ رہا عزت کے ساتھ رہوں گا وہ کام کبھی نہیں کروں گا جو پاکستان یا اسلام آباد میں ہماری بے عزتی کا باعث ثابت ہو ۔ ہمارے پاس نہ پہلے کچھ تھا اور بعد میں کچھ رہے گا اگر ہم اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوئے تو فٹ پاتھ کا آدمی تھا اور فٹ پاتھ پر ہی چلا جاہوں گا جہاں تک ہوسکے اپنی کردار اور عمل کو ثابت کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا پارلیمنٹ کو مذاق نہیں بنانا چاہیے جن قوموں نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اٹھارویں ترمیم سے جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ سنجیدگی سے استعمال میں لاہوں گا ۔ وفاق کے ساتھ اس وقت صرف 5 شعبے ہیں بہت کچھ صوبوں کو دیدیا گیا ہے زمینداری ہماری اہم ذریعہ معاش ہے مگر بجلی نہ ہونے کے برابر ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد 50 میگاواٹ بجلی لگانے کا اختیار ہمیں حاصل ہے کیوں نے ہم لورالائی ، واشک اور خضدار میں50 میگاواٹ کے بجلی گر تعمیر کرے ۔ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خدارا بہت کچھ ہوچکا ہے اب مزید برداشت نہیں ہوسکا میں اپنے گھر سے احتساب اور تبدیلی کا آغاز کرتا ہوں سب سے پہلے سیکرٹ فنڈ کو بند کررہا ہوں جو کرپشن کا سرچشمہ ہے ۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے تمام مراعات پر کٹ لگادیں گے اور وی آئی پی کلچرکا خاتمہ کریں گے ۔ سیکورٹی کے بغیر کوئی وی آئی پی پروٹوکول حاصل نہیں کروں گا کیونکہ وی آئی پی پروٹوکول کے نام پر جب سڑکیں بند ہوجاتی ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے ہمیں ان غریب عوام کو وی آئی پی پروٹوکول دینا چاہیے جن کے بچے تعلیم ، علاج اور پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہے ۔ تمام معاملات کو میرٹ کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ایک شفاف اور سیاسی اثرورسوخ کے بغیر احتساب کا عمل شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں قبائلی تضادات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے ہم نے ایک دوسرے کو بہت مارا ہے ان تنازعات کو ختم کرکے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اور کرسچن ہمارے معاشرے کا بہت اہم حصہ ہے لیکن اس وقت وہ مائی گریشن پر مجبورہے ان کا سکون برباد ہوچکا ہے اقلیتوں کا تحفظ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ خواتین کے حقوق سے متعلق انہوں نے کہا کہ خواتین اراکین اسمبلی خواتین کی ترقی کے حوالے سے ہمیں تجاویز دے ہم کابینہ اور اسمبلی کی فلور پر منظور کرائیں گے کیونکہ خواتین کے بغیر معاشرہ کا چلنا ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مادری زبانوں سے نہیں روک سکتا ہم تمام کالجوں اور سکولوں میں مادری زبانوں کا سبجیکٹ شروع کرائیں گے یہ ہمارا خواب تھا جسے ہم پورا کرنے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق سے اپنے حقو ق کے حصول کی خاطر ضرور لڑیں گے اور نئے سماجی عمرانی معاہدے کے لئے کام کریں گے ۔ وفاق میں ملازمین کے کوٹے پر عمل درآمد کروائیں گے میاں محمد نواز شریف پر واضح کردیں گے کہ وفاقی اداروں میں بلوچستان کے اصل نمائندوں کو ملازمتیں ملنی چاہیے نہ کہ ان لوگوں جو کہ اسلام آبا دمیں بلوچستان کے نام پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ شہر کو خوبصورت بنائیں گے مسائل ضرور ہیں لیکن اگر اراکین اسمبلی ہمارا ساتھ دیں گے تو انشاء اللہ ہم تمام مسائل پر قابو پالیں گے ایسا نہ کہ ہم خوبصورتی کے لئے کام کرے دوسری طرف احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ساحل اور وسائل کا تحفظ کریں گے ۔ امن وامان سے متعلق انہوں نے کہا کہ فورس کو ہم نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اس لئے وہ ناکام ہوگئی ہے لیویز ، پولیس کو جدید خطوط پر استوار کریں گے تاکہ ہمیں بار بار ایف سی اور دوسرے فورسز کو بلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔گوادر اور پسنی میں ماہی گیروں کے ساتھ ماضی میں کافی زیادتیاں ہوئی ہیں آج کے بعد ان کے ساتھ زیادتیاں نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ گوادر اورپسنی میں وہاں کے مقامی اور سرکاری زمینوں کی زبردست انداز میں بندربانٹ ہوئی ہے وزراء نے 3 لاکھ کے پلاٹ 3 ہزار میں بیچے ہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ گوادر اور پسنی کے زمین کے ایک ایک انچ کا حساب لیا جائے گا اور جنہوں نے کرپشن کی اس کو جواب دیناپڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ، پشتون ، ہزارہ اور آبادکار کو اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عدم تشدد اور برداشت کو اپنانا ہوگا جب تک جیو اور جینے دو کے فلسفے کو نہیں اپنائیں گے اس وقت تک مسائل سے دوچار رہیں گے ہمیں ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا جو لڑانے کی وجہ بنتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مائننگ سیکٹر سے مافیا اور لینڈ مافیا کے خاتمے کے لئے از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور مقامی افراد کو وہاں ترجیح دی جائے گی ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں داغ ندامت سے بچائے ۔


http://dailyazadiquetta.com/2013/06/10/ڈاکٹر-مالک-بلوچ-کا-مزاحمت-کاروں-کو-مذاک/

We ask Honorable CM of Balochistan Dr. Malik Baloch to appoint a commission to investigate the cold blooded murder of Comrade Great Habib Jalib, Raziq Bugti, Nawab Akbar Khan Bugti and all other Baloch leaders and activists, who were killed in cold blood to bring their killers to Justice. BNN


No comments:

Post a Comment