Monday, June 10, 2013

اقتدار ہماری ترجیحات نہیں جب بھی نوازشریف کہیں گے وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں گے،عبدالمالک بلوچ


کوئٹہ (قدرت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ عام معافی بلوچ سوچ کے منافی ہے اقتدار ہماری ترجیحات نہیں جب بھی نوازشریف کہیں گے وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں گے 90 روز میں حکومتی کارکردگی واضح ہوجائے گی ناکامی اور کامیابی کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے گا کرپشن کے خاتمے قیام امن تعلیم کا فروغ اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو حالات بہتر نہیں ہونگے قتل و غارت گری اپنی جگہ بلوچستان میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث تعلیم یافتہ طبقہ نقل مکانی پر مجبورہوچکا ہے خضدار ‘ مکران ‘ وڈھ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ڈاکٹرز اور تعلیم یافتہ لوگ نقل مکانی کررہے ہیں جو ہمارے لئے نقصان دے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 19 ارب روپے اساتذہ کی تنخواہوں کی مد میں دیئے جاتے ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم 19 سو قابل لوگ سامنے نہیں لاسکتے بلوچستان میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث معیشت کوناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو آئین و قانون کے تحت سزا دی جانی چاہئے ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں ایف آئی آر میں پرویزمشرف نامزد ہیں آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ ہم سب اگر ایک نقطے پر یکجا ہوجائیں تو مسائل کا حل ممکن ہے اگر وفاقی صوبائی یا عسکری قیادت میں سے کسی ایک نے بھی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا گزشتہ 10 سالوں میں جو کچھ بلوچستان کے ساتھ ہوا اس کی مسائل تاریخ میں نہیں ملتی کرپشن کا یہ عالم تھا کہ جتنے بھی پیسے آئے سب کرپشن کی نظرہوگئے ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں گے تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ بلوچستان کے عوام کے پیسے کو ان کی فلاح و بہبود پر لگائیں بلوچستان کو مزید ابتر حالت میں نہیں دیکھ سکتا کرپشن کا داغ ختم کرنے کی کوشش کریں گے میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ بلوچستان میں کئی گناہ زیادہ کرپشن ہوئی تاہم شفاف احتساب پر یقین رکھتے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ سابقہ دوراقتدار میں ہونے والے تمام اقدامات کا جائزہ لیا جائے این ایف سی ایوارڈ ‘ 18 ویں ترمیم ہمیں بھیک میں نہیں ملیں بلکہ اس کے حصول کیلئے جدوجہد کا ایک طویل سلسلہ ہے ہماری اولین ترجیح بلوچستان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنا ہے ہم چاہئیں گے کہ اساتذہ سکول میں آئیں ہم نے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فرائض انجام دیں اگر کسی نہ مانا تو قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ حالات کی بہتری کیلئے سب سے پہلے 65 کے ایوان کو ٹھیک ہونا ہوگا اگر ہم نے خود میں تبدیلی پیدا کی تو حالات بہتر ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا عوام سے معاہدہ ہے کہ ساحل و وسائل کو تحفظ فراہم کریں گے سینئر صحافی کی جانب سے الزامات عائد کرنا قابل افسوس ہے نہ ہی میں چلی اور کینیڈا گیا اور نہ مجھے شوق ہے بلوچستان کے ساحل و وسائل کے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے ہم پر الزامات عائد کرنے والے صحافی شواہد پیش کریں اگر وہ شواہد پیش نہ کرسکے تو میں اسے سنجیدگی سے لونگا جو بھی بلوچستان کے عوام کیساتھ ہوگا اس کیخلاف کارروائی کریں گے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جنگی بنیادوں پر کام کررہے ہیں خضدار ‘ گوادر ‘ خاران ‘ پنجگور ‘ واشک ‘ نوشکی ‘ نصیرآباد سمیت پشتون علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے صوبائی دارالحکومت میں بھی ہسپتالوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہے ڈاکٹروں کو ڈیوٹی انجام دینے کا کہہ دیا ہے اگر عملدرآمد نہ کیا گیا تو قانونی چارہ جوائی کریں گے تعلیم ‘ صحت جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے ترجیح بنیادوں پرعملی اقدامات اٹھائیں گے انہوں نے کہا اقتدار میں باعزت طورپر رہنا پسند کرتے ہیں تمام میڈیا کو دعوت دیتا کہ وہ ہمیں غور سے دیکھے بحیثیت وزیراعلیٰ میری کوشش ہوگی کہ بلوچستان میں امن ترقی خوشحالی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھائیں کیونکہ ہمارے پاس مواقع بھی ہیں اور چیلنجز بھی مواقعوں سے فائدہ اٹھایا تو چیلنجز کا سامنا کرلیں گے ہم نے کبھی اقتدار کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا بزرگ قوم پرست رہنماء شہید نواب اکبرخان بگٹی کے دوراقتدار میں بھی ہم نے وزارتوں سے استعفے دے دیئے تاہم ہماری جدوجہد ان کیساتھ جاری رہی ہماری پارٹی کا منشور ہے جس کے مطابق چلتے ہیں ہم نہیں سمجھتا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا جائے گا یا میں مستعفی ہو جاؤنگا ہمیں عوام کا اعتماد حاصل ہے اور ان کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے ہرممکن جدوجہد کی جائے گی 90 دن میں ہماری کارکردگی واضح ہوجائے گی اس کے بعد جو ہماری ناکامی ہوگی اسے قبول کریں گے اور ہماری کامیابی کو میڈیا قبول کرے


http://www.dailyqudrat.com/2013/06/10/اقتدار-ہماری-ترجیحات-نہیں-جب-بھی-نوازش/ 

 عام معافی بلوچ سوچ کے منافی ہے،ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ (آن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ عام معافی بلوچ سوچ کے منافی ہے اقتدار ہماری ترجیحات نہیں جب بھی نوازشریف کہیں گے وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں گے 90 روز میں حکومتی کارکردگی واضح ہوجائے گی ناکامی اور کامیابی کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے گا کرپشن کے خاتمے قیام امن تعلیم کا فروغ اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو حالات بہتر نہیں ہونگے قتل و غارت گری اپنی جگہ بلوچستان میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث تعلیم یافتہ طبقہ نقل مکانی پر مجبورہوچکا ہے خضدار ‘ مکران ‘ وڈھ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ڈاکٹرز اور تعلیم یافتہ لوگ نقل مکانی کررہے ہیں جو ہمارے لئے نقصان دے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 19 ارب روپے اساتذہ کی تنخواہوں کی مد میں دیئے جاتے ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم 19 سو قابل لوگ سامنے نہیں لاسکتے بلوچستان میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث معیشت کوناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو آئین و قانون کے تحت سزا دی جانی چاہئے ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں ایف آئی آر میں پرویزمشرف نامزد ہیں آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ ہم سب اگر ایک نقطے پر یکجا ہوجائیں تو مسائل کا حل ممکن ہے اگر وفاقی صوبائی یا عسکری قیادت میں سے کسی ایک نے بھی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا گزشتہ 10 سالوں میں جو کچھ بلوچستان کے ساتھ ہوا اس کی مسائل تاریخ میں نہیں ملتی کرپشن کا یہ عالم تھا کہ جتنے بھی پیسے آئے سب کرپشن کی نظرہوگئے ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں گے تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ بلوچستان کے عوام کے پیسے کو ان کی فلاح و بہبود پر لگائیں بلوچستان کو مزید ابتر حالت میں نہیں دیکھ سکتا کرپشن کا داغ ختم کرنے کی کوشش کریں گے میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ بلوچستان میں کئی گناہ زیادہ کرپشن ہوئی تاہم شفاف احتساب پر یقین رکھتے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ سابقہ دوراقتدار میں ہونے والے تمام اقدامات کا جائزہ لیا جائے این ایف سی ایوارڈ ‘ 18 ویں ترمیم ہمیں بھیک میں نہیں ملیں بلکہ اس کے حصول کیلئے جدوجہد کا ایک طویل سلسلہ ہے ہماری اولین ترجیح بلوچستان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنا ہے ہم چاہئیں گے کہ اساتذہ سکول میں آئیں ہم نے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فرائض انجام دیں اگر کسی نہ مانا تو قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ حالات کی بہتری کیلئے سب سے پہلے 65 کے ایوان کو ٹھیک ہونا ہوگا اگر ہم نے خود میں تبدیلی پیدا کی تو حالات بہتر ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا عوام سے معاہدہ ہے کہ ساحل و وسائل کو تحفظ فراہم کریں گے سینئر صحافی کی جانب سے الزامات عائد کرنا قابل افسوس ہے نہ ہی میں چلی اور کینیڈا گیا اور نہ مجھے شوق ہے بلوچستان کے ساحل و وسائل کے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے ہم پر الزامات عائد کرنے والے صحافی شواہد پیش کریں اگر وہ شواہد پیش نہ کرسکے تو میں اسے سنجیدگی سے لونگا جو بھی بلوچستان کے عوام کیساتھ ہوگا اس کیخلاف کارروائی کریں گے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جنگی بنیادوں پر کام کررہے ہیں خضدار ‘ گوادر ‘ خاران ‘ پنجگور ‘ واشک ‘ نوشکی ‘ نصیرآباد سمیت پشتون علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے صوبائی دارالحکومت میں بھی ہسپتالوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہے ڈاکٹروں کو ڈیوٹی انجام دینے کا کہہ دیا ہے اگر عملدرآمد نہ کیا گیا تو قانونی چارہ جوائی کریں گے تعلیم ‘ صحت جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے ترجیح بنیادوں پرعملی اقدامات اٹھائیں گے انہوں نے کہا اقتدار میں باعزت طورپر رہنا پسند کرتے ہیں تمام میڈیا کو دعوت دیتا کہ وہ ہمیں غور سے دیکھے بحیثیت وزیراعلیٰ میری کوشش ہوگی کہ بلوچستان میں امن ترقی خوشحالی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھائیں کیونکہ ہمارے پاس مواقع بھی ہیں اور چیلنجز بھی مواقعوں سے فائدہ اٹھایا تو چیلنجز کا سامنا کرلیں گے ہم نے کبھی اقتدار کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا بزرگ قوم پرست رہنماء شہید نواب اکبرخان بگٹی کے دوراقتدار میں بھی ہم نے وزارتوں سے استعفے دے دیئے تاہم ہماری جدوجہد ان کیساتھ جاری رہی ہماری پارٹی کا منشور ہے جس کے مطابق چلتے ہیں ہم نہیں سمجھتا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا جائے گا یا میں مستعفی ہو جاؤنگا ہمیں عوام کا اعتماد حاصل ہے اور ان کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے ہرممکن جدوجہد کی جائے گی 90 دن میں ہماری کارکردگی واضح ہوجائے گی اس کے بعد جو ہماری ناکامی ہوگی اسے قبول کریں گے اور ہماری کامیابی کو میڈیا قبول کرے

http://dailyazadiquetta.com/

                                                                                                            SOURCE: Daily Intekhab

                                                                                                        SOURCE: Daily Intekhab

                                                                                                                SOURCE: Daily Intekhab

No comments:

Post a Comment