Friday, June 14, 2013

بلوچستان،صوبائی کابینہ تشکیل نہ ہونے کے باعث چھ ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی بجٹ تیار کررہی ہے، زرائع


کوئٹہ ( قدرت نیوز ) بلوچستان میں صوبائی کابینہ تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی بجٹ کی تیاری کا سلسلہ چھ ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی تیار کررہی ہے قابل اعتماد ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کے دو پشتونخواملی عوامی پارٹی کے دو اور نیشنل پارٹی کے دو ارکان بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مصروف ہے سرکاری طور پر ان چھ ارکان اسمبلی کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم یہ چھ ارکان بجٹ کی تیاری میں محکمہ خزانہ اور دیگر بیوروکریسی کیساتھ ملکر تیاری میں مصروف ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبائی بجٹ 21یا 22جون کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا اگر 21یا 22جون تک صوبائی کابینہ تشکیل نہ پاسکی تو وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ خود صوبائی بجٹ پیش کرینگے صوبائی بجٹ 2013-14 30 جون تک منظور کرنا ضروری ہے صوبائی بجٹ 21یا 22کو پیش ہوتا ہے تو ایک ہفتے تک بجٹ اجلاس جاری رہیگا

http://www.dailyqudrat.com/2013/06/14/بلوچستان،صوبائی-کابینہ-تشکیل-نہ-ہونے/news.html#sthash.twTGcivb.dpuf

بلوچستان کو وفاق کے قابل تقسیم آمدنی سے 141 
ارب روپے ملیں گے

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) آئندہ مالی سال میں بلوچستان کو قابل تقسیم آمدنی سے 141ارب روپے ملیں گے پنجاب کو708ارب روپے، سندھ کو 400ارب روپے اور کے پی کے کو 251ارب روپے ملیں گے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سال صوبو ں میں ڈیڑھ کھرب روپے تقسیم کئے جائیں گے یہ رقسم اس کی رقم 1.2کھرب روپے سے 30ارب زیادہ ہے اس لئے امید ہے کہ بلوچستان کے بجٹ کا حجم بھی کافی بڑا ہوگا امید ہے کہ گیس پر آمدنی کو شامل کر کے بلوچستان کے بجٹ کا حجم 200ارب روپے ہوگا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام 40ارب روپے ہوگا سب سے اہم ترین بات یہ ہوگی صوبائی اسمبلی کے ارکان کو کم سے کم رقم فراہم کی جائے گی وہ بھی صرف اسکیم کی نشاندہی کریں گے باقی کا م سرکاری ادارے سخت نگرانی میں انجام دینگے آئندہ سال اس بات کی کوئی امید نہیں ہے کہ ہر ایم پی اے کو سالانہ 25کروڑ ورپے ملیں اور وہ جہاں چاہیں خرچ کریں یا نہ کریں۔


وقتِ اشاعت June 14, 2013

http://dailyazadiquetta.com/2013/06/14/بلوچستان-کو-وفاق-کے-قابل-تقسیم-آمدنی-سے/

No comments:

Post a Comment